اسلام آباد (اے بی این نیوز)صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ بعض لوگوں نے کہا آپ کی اوقات کیا ہے تاریخ دینے کی ،انسان کو اپنی اوقات یاد دلانا کوئی بری بات نہیں،میں نے چیف الیکشن کمیشن کو پہلے خط لکھا تھا ،بعد میں ٹویٹ کیاتھا،نگران حکومت کو توجہ دینی چاہیے،پاکستان کی ضرورت ہے منصانہ انتخابات ،انتخابات کے اوپر مسلسل باتیں اس لیے ہورہی ہیں کہ اطمینان نہیں ،پورے پاکستان کی خواہش ہے کہ صاف الیکشن ہوں ،دہشت گردی کے واقعات بڑھے تو آرمی چیف عاصم منیر سے میری بات ہوئی،آرمی چیف سے کہا تھا کہ افغانستان حکومت کی اچھا کنٹرول ہیں،الیکشن کی ساکھ متاثر ہوگی توملک میں سیاسی عدم استحکام رہے گا،افغانستان سےپاکستان میں ہونے والی دراندازی میں بھارت مکمل طور پر ملوث ہے،چیئرمین پی ٹی آئی عدالتوں کے فیصلوں کے پابند رہیں گے،انتخابات آنے والے تین مہینے بہت اہم ہیں،سپریم کورٹ کی بھی ذمہ داری ہیں کہ ان تین مہینوں پر توجہ دیں،بہت ضروری ہے کہ درگزر کے ساتھ ایک دوسرے کو یکجا کیاجائے،چیئرمین پی ٹی آئی سے بڑی غلطی ہوئی وہ سمجھتے رہے کہ آئین بالاتر رہےگا،چیئرمین پی ٹی آئی کی اس سوچ کو حالات نے غلط ثابت کردیا ،نواز شریف سےمیر ی ممکنہ ملاقات سے متعلق باتیں درست نہیں ہیں، اگر کسی خاص جماعت کیلئے راستہ ہموار کیاجارہا ہے تویہ نہیں ہونا چاہیے،آرمی چیف کی تقرر سے متعلق چیئرمین پی ٹی آئی نے کوئی مخالفت نہیں کی،جنرل فیض کو آرمی چیف بنانے سے متعلق میری اور چیئرمین پی ٹی آئی کی کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔















