اہم خبریں

پاکستان سٹیل مل کی معیشت تباہ کرنیوالوں کا احتساب کیا جائے، صدر مملکت کو خط ارسال

کراچی(نیوزڈیسک)پاکستان اسٹیل مل کی زبوں حالی کا معاملہ ،مالی بے ضابطگیوں کے خلاف انصاف لیبر یونین نے صدرمملکت کو خط لکھ دیااسٹیل مل ملک پاکستان کو معیشت کی راہ پرگامزن کرسکتی ہے۔،اسٹیل مل ملک کے مجموعی خسارے کو مثبت سمت میں تبدیل کرسکتی ہے۔2005 سے لیکر2023 تک کی گئی غلطیوں کا حساب لیاجائے۔اسٹیل مل کواربوں رپوں کے خسارے کاسامناہے۔ ۔سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود قصور واروں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوئی۔خط کا متن ۔اسٹیک ہولڈرز نے متعدد بار شکایات درج کروائیں ہیں۔2005 سے لیکر2023 تک مالی خون ریزی کا زمہ دار کون تحقیقات ہو نی چاہیے۔2008 کے مقابلےمیں ستمبر2023 میں اسٹیل مل کی شیئربک کی ویلیو کیاتھی؟اسٹیل مل کے اعلی عہدیداروں پرتعینات افسران کی تعلیمی قابلیت کیا تھی؟2005 سے 2023 تک پاکستان اسٹیل مل کی لیگل ٹیم کی فنانشل اسٹیٹمنٹ کیا تھی؟؟پی ڈی ایم کی حکومت نے برطرف ملازمین کی بحالی کے حوالے سے عدالتی حکم پرعمل درآمد نہیں کیا۔عبوری حکومت بھی ماضی کی حکومتوں کی روائیتوں پر گامزن ہےاسٹیل مل کے معاملے پرعبوری حکومت بھی سنجیدہ نظرنہیں آرہی ۔پاکستان اسٹیل مل بغیرنجکاری کے بحال ہوسکتی ہے اس میں تعاون کیاجائے۔پاکستان اسٹیل مل میں جو کرپشن کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔پاکستان اسٹیل مل منافع کمانے والا ادارہ آج زبوں حالی کاشکار۔ممریزخان اسٹیک ہولڈرکراچی،قومی ادارہ اسٹیل مل پرحکومت عدم توجہی کی وجہ سے قومی معیشت کو خسارے کاسامنا ہے۔ممریزخان نے کہا کہ 2005 سے 2023 تک سرکاری سرپرستی میں اسٹیل مل کو تباہ کیاگیا۔پاکستان اسٹیل مل کو 650 ارب روپے کا قرض کے بوجھ تلے ہےجون 2022تک 206 ارب کا خسارہ ۔کل خسارہ 2023 تک 448 ارب تک بڑھ گیا۔ریاستی اداروں کی حفاظت کس کی ذمہ داری ہے؟ممریزخان کا کہنا ہے کہ ہزاروں شکائتوں کے باجود کوئی نوٹس نہیں لیاجارہا۔ایف آئی اے۔نیب نے جو افراد حراست میںلئے تھے وہ چھوٹ گئے۔مبینہ طور پرملوث کرپٹ افسران کے خلاف کیوں سخت کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی؟پاکستان اسٹیل مل نے بطورشکائت کنندہ کیسزز نہیں بھیجے۔ 2008 سے 2016 تک کی کوئی کارکردگی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔اسٹیل ملز کی بحالی سے ٹیکنیکل افراد کو روزگار ملے گا۔انجیرنگ انڈسٹری اور کنسٹرکشن سیکٹر کو مسابقتی قیمتون پر مال ملےگا۔پرائیویٹ سیکٹر کی اجارہ داری ختم ہوگی۔مقامی خام مال اور ہنر مند ملازمین کو روزگار ملے گا۔جس کی وجہ سے تقریبا 40% سٹیل کے درامدی بلز مین کمی ہو گی۔ جس سے روپیہ کی قدر مین استحکام ایگا۔،۔

متعلقہ خبریں