اسلام آباد(نیوزڈیسک) چیف جسٹس سپریم کورٹ کی جانب سے پارلیمانی ریکارڈ طلبی پر حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایک بل کی پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ عدالت کو فراہم نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ذرائع کے مطابق پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ طلب کئے جانے پر حکومت نے اہم فیصلہ کرلیا ہے ۔ جبکہ اٹارنی جنرل نے پارلیمانی کارروائی کے مطلوبہ ریکارڈ کی فراہمی کیلئے سپیکر قومی اسمبلی آفس کو خط لکھ دیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق حکومت کا موقف ہے کہ پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ کا سپیکر قومی اسمبلی کسٹوڈین ہے پارلیمنٹ کی کارروائی کا ریکارڈ فراہمی کا کوئی جواز نہیں بنتا ۔ ۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے پارلیمانی کارروائی اور قائمہ کمیٹی میں ہونیوالی بحث کا ریکارڈ بھی طلب کررکھا ہے















