کراچی (اے بی این نیوز) سندھ کے 12 میں سے 11 اضلاع میں غذائی قلت کی صورتحال انتہائی تشویشناک قرار دے دی گئی۔ آئی پی سی رپورٹ کے مطابق سندھ کے 12 اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر تقریباً 12 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، جبکہ ایک لاکھ 18 ہزار حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین بھی شدید غذائی قلت سے متاثر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق خیرپور، لاڑکانہ، بدین اور دادو سمیت سندھ کے 11 اضلاع کو غذائی قلت کے فیز 4 میں شامل کیا گیا ہے۔ موسمی بیماریاں، ناقص صفائی، صاف پانی کی کمی اور بچوں کی خوراک و نگہداشت کے نامناسب طریقے غذائی قلت کی بڑی وجوہات قرار دی گئی ہیں۔
آئی پی سی رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا کے 14 اضلاع میں سے 10 اضلاع فیز 4 میں شامل ہیں، جہاں تقریباً 11 لاکھ 10 ہزار بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، جبکہ 67 ہزار حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو بھی غذائی قلت کا سامنا ہے۔
بلوچستان کے 19 اضلاع میں سے 7 کو فیز 4 جبکہ 12 اضلاع کو فیز 3 میں شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں تقریباً 4 لاکھ 20 ہزار بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ 47 ہزار حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو علاج کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب سندھ میں غذائی پروگرام کی اشیا کی خریداری پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پرائمری ہیلتھ انیشی ایٹو سندھ سالانہ 3 ارب روپے سے زائد کی غذائی اشیا خرید رہا ہے اور یہ خریداری مبینہ طور پر ایک ہی وینڈر سے کی جا رہی ہے۔
ذرائع نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ پیپلز پرائمری ہیلتھ انیشی ایٹو سندھ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نیب عدالت سکھر سے سزا یافتہ رہ چکے ہیں، تاہم عدالت نے ان کی سزا معطل کر دی تھی۔
ذرائع کے مطابق ادارے کے چیف آپریٹنگ آفیسر کی تعیناتی بھی چیلنج کی گئی ہے۔ الزام ہے کہ چیف آپریٹنگ آفیسر نے خود کو سی ایس ایس افسر ظاہر کرکے ملازمت حاصل کی۔ ان الزامات پر متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔
مزیدپڑھیں: سی ایم ای بائیک سکیم فیز 2 کی رجسٹریشن پنجاب میں شرو ع ہوگئی















