اہم خبریں

آزاد کشمیر انتخابات: ایک ووٹر کے لیے بھی پولنگ اسٹیشن، ایل اے-40 کی حیران کن انتخابی حقیقت

آزاد کشمیر انتخابات، ایک ووٹر کے لیے بھی پولنگ اسٹیشن، ایل اے-40 کی حیران کن انتخابی حقیقت

اسلام آباد (رضوان عباسی سے )آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے مہاجرین کے حلقہ ایل اے 40 وادی 1 کی انتخابی اور جغرافیائی ساخت ملکی تاریخ کے انوکھے ترین انتخابی حلقوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ حلقہ نہ صرف بیک وقت دو بڑے صوبوں یعنی سندھ (22 اضلاع) اور بلوچستان (6 اضلاع) پر پھیلا ہوا ہے، بلکہ اس میں ووٹرز کی تقسیم اور پولنگ اسٹیشنز کا قیام بھی حیرت انگیز تضادات کا حامل ہے۔اس طویل و عریض حلقے میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 5,777 جبکہ کل پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 47 ہے۔ حلقے کی سب سے بڑی انفرادیت یہ ہے کہ جہاں بڑے شہروں میں ہزاروں ووٹرز کے لیے متعدد پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں، وہیں دور دراز اضلاع میں محض ایک، دو یا تین ووٹرز کے لیے بھی سرکاری سطح پر الگ سے پولنگ اسٹیشنز کا بندوبست کیا گیا ہے۔

صوبہ سندھ کے 22 اضلاع کا تفصیلی احوال و اعداد و شمار اے بی این نیوز نے حاصل کر لئے ہیں جس کے مطابق کراچی میں سب سے زیادہ ووٹرز رجسٹرڈ ہیں، جہاں کل ووٹرز کی تعداد 956 (مرد 485، خواتین 471) ہے، جن کے لیے 4 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔کراچی ویسٹ میں کل ووٹرز 924 (مرد 443، خواتین 481) ہیں، جن کے لیے 2 پولنگ اسٹیشنز قائم ہیں۔اسی طرح کراچی سینٹرل میں مہاجرین کے کل ووٹرز 702 (مرد 358، خواتین 344) ہیں، جن کے لیے 5 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔کورنگی میں کل رجسٹرڈ ووٹرز 621 (مرد 279، خواتین 342) ہیں، جن کے لیے 2 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔کراچی ساؤتھ میں کل ووٹرز 567 (مرد 270، خواتین 292) ہیں، جن کی سہولت کے لیے 1 پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔کیماڑی میں کل ووٹرز 260 (مرد 127، خواتین 133) ہیں، جن کے لیے 1 پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔

حیدرآباد میں کل ووٹرز 184 ہیں، جن کے لیے 3 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ ابتدائی ریکارڈ کے مطابق 83 ووٹرز کا تعلق بھی یہیں سے ہے۔ملیر میں کل ووٹرز کی تعداد 170 (مرد 71، خواتین 99) ہے، جن کے لیے 5 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔میرپورخاص میں کل ووٹرز 105 ہیں، جن کے لیے 1 پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔خیرپور میں کل 48 رجسٹرڈ ووٹرز کے لیے 1 پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔اسی طرح گھوٹکی میں کل ووٹرز 23 ہیں، جن کے لیے 1 پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔

جامشورو میں کل ووٹرز 9 ہیں، جن کے لیے 3 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔شہید بے نظیر آباد (نوابشاہ) میں کل ووٹرز 6 ہیں، جن کے لیے 1 پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔سانگھڑ میں کل ووٹرز 5 ہیں، جن کے لیے 1 پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔نوشہرو فیروز میں کل ووٹرز 4 ہیں، جن کے لیے 1 پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔شکارپور میں کل ووٹرز 4 ہیں، جن کے لیے 1 پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔

سکھر میں کل ووٹرز 3 ہیں، جن کے لیے 1 پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔ٹھٹھہ میں کل ووٹرز 3 ہیں، جن کے لیے 1 پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔اسی طرح دادو میں صرف 2 خواتین رجسٹرڈ ووٹرز ہیں، جن کے لیے 1 پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔قمبر شہدادکوٹ میں حیرت انگیز طور پر کل 1 ووٹر رجسٹرڈ ہے، جس کے لیے 1 پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔عمرکوٹ میں بھی کل 1 ووٹر رجسٹرڈ ہے، جس کے لیے 1 پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔لاڑکانہ میں بھی کل 1 ووٹر رجسٹرڈ ہے، جس کے لیے 1 پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔ٹنڈو الہٰیار میں صرف 1 خاتون رجسٹرڈ ووٹر ہے، جن کے لیے 1 پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان میں سب سے بڑا مرکز کوئٹہ ہے، جہاں کل ووٹرز کی تعداد 1,167 (مرد 595، خواتین 572) ہے، جن کے لیے 1 بڑا پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔ضلع سبی میں ووٹرز کی تعداد 3 ہے، جن کے لیے 1 پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔ضلع پشین میں کل 1 ووٹر رجسٹرڈ ہے، جس کے لیے 1 پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔

قلعہ سیف اللہ میں بھی کل 1 ووٹر رجسٹرڈ ہے، جس کے لیے 1 پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔صنعتی شہر حب میں بھی کل 1 ووٹر رجسٹرڈ ہے، جس کے لیے 1 پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔اسی طرح ضلع لورالائی میں بھی کل 1 ووٹر رجسٹرڈ ہے، جس کے لیے 1 پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں‌:سونا، چاندی کی قیمتوں میں پھر اچانک کمی، آج کی تازہ ترین اپڈیٹ

متعلقہ خبریں