اسلام آباد (اے بی این نیوز) پاکستانی تاجر رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ویزوں کے حصول میں مشکلات برآمدات، تجارتی سرگرمیوں اور بین الاقوامی کاروباری تعلقات پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔
سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے بانی اور چیئرمین اسماعیل ستار نے کہا کہ بہت سے پاکستانی تاجروں، برآمد کنندگان اور کاروباری وفود کو ویزوں کے اجرا میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق ویزا درخواستوں میں تاخیر یا مسترد ہونے کی وجوہات کے حوالے سے کوئی سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی جس سے کاروباری برادری میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر متحدہ عرب امارات کے قونصلیٹ سے متعدد بار رابطہ کیا گیا ہے تاہم اب تک کوئی واضح پیش رفت نہیں ہوسکی۔ ان کے مطابق دبئی میں طویل عرصے سے کاروبار کرنے والے پاکستانیوں کو بھی ویزے کے مسائل کا سامنا ہے جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
اسماعیل ستار کا کہنا تھا کہ آئندہ سال دبئی میں ہونے والی گلف فوڈ نمائش میں پاکستانی کمپنیوں کی شرکت بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ کئی کمپنیاں اپنی سیلز ٹیموں کو ویزے نہ ملنے پر پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو پاکستان کی برآمدات بڑھانے کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سیکرٹری جنرل شاہد انور نے کہا کہ خلیجی ممالک میں پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا پالیسی کی صورتحال مختلف ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب نے سیاحتی ویزے کی سہولت متعارف کرائی ہے جبکہ کویت نے بھی کئی سالوں بعد پاکستانیوں کے لیے مختلف ویزا کیٹیگریز بحال کر دی ہیں تاہم یو اے ای کے حوالے سے کاروباری برادری کو تاحال مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ متحدہ عرب امارات کے حکام سرکاری طور پر کسی بھی پابندی کی تردید کرتے ہیں لیکن زمینی سطح پر بہت سے پاکستانی تاجروں کو ویزوں کے اجرا میں رکاوٹوں کا سامنا ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عثمان شوکت نے بھی کہا کہ متحدہ عرب امارات میں کاروبار کرنے والے بہت سے پاکستانی اہم تجارتی میٹنگز اور بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت سے محروم رہے ہیں جس کی وجہ سے برآمدات کے مواقع متاثر ہوئے ہیں۔
دوسری جانب ایوی ایشن کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے سفری رجحانات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جب کہ بہت سے پاکستانی مسافر متبادل مقامات کا رخ کر رہے ہیں۔
تاجر رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر متحدہ عرب امارات کے حکام کے ساتھ موثر سفارتی رابطہ قائم کرے تاکہ پاکستانی تاجروں، برآمد کنندگان اور کاروباری وفود کو درپیش مشکلات کو جلد از جلد حل کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں:پاکستانی اداکار سچل افضل کی شکل بھارتی اداکار عمران ہاشمی سے ملنے لگی، سوشل میڈیا پر چرچے















