تہران (اے بی این نیوز) ایران نے آبنائے ہرمز میں تیل کی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والے غیر قانونی راستے جلد بند کرنے کا اعلان کردیا۔
پاسداران انقلاب ایران کے اعلامیے کے مطابق عمانی ساحل کے قریب موجود تیل کی اسمگلنگ کے غیر قانونی راستے بند کیے جائیں گے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان راستوں کے استعمال سے متعلق دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاسداران انقلاب کے مشیر محمد رضا نقدی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول ہے اور جب تک ایران کے جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، موجودہ صورتحال برقرار رہے گی۔
ایرانی حکام کے مطابق 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے اور سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد سے آبنائے ہرمز پر تہران کا مکمل کنٹرول ہے، جبکہ اس وقت روزانہ صرف 10 بحری جہاز گزر رہے ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے قبل آبنائے ہرمز سے روزانہ 125 بحری جہاز گزرتے تھے۔ ایران نے امریکی بحریہ کی مدد سے تیل کی ترسیل بحال کرنے کے دعووں کو بھی مسترد کردیا ہے۔
دوسری جانب جہاز رانی کے عالمی اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے دوران خلیجی خطے سے تیل کی یومیہ برآمدات میں کچھ بہتری دیکھی گئی، تاہم ٹینکرز پر ایرانی حملوں کے باعث تیل کی برآمدات میں ہونے والی بہتری کے برقرار رہنے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:ہونڈا 2026 ماڈل کی نئی قیمتیں سامنے آگئیں، صارفین کے لیے اہم خبر















