اسلام آباد(رضوان عباسی )پارلیمنٹ میں پیش کی گئی آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی تازہ رپورٹ میں چار وفاقی وزارتوں میں مجموعی طور پر 16 ارب 69 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی مالی بے ضابطگیوں، اضافی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا انکشاف کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ، وزارت مذہبی امور، وزارت تجارت اور وزارت اوورسیز پاکستانیز سے متعلق 35 آڈٹ پیراز میں سنگین مالی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق صرف وزارت خارجہ کے 24 آڈٹ پیراز میں 9 ارب 61 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، جبکہ وزارت مذہبی امور کے 8 آڈٹ پیراز میں 5 ارب 21 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اسی طرح وزارت تجارت اور وزارت اوورسیز پاکستانیز کے 3 آڈٹ پیراز میں ایک ارب 87 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔
آڈٹ رپورٹ میں حج 2024 کے انتظامات سے متعلق بھی سنگین مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک نجی حج کمپنی اور طوافہ کمپنی کی جانب سے سہولیات کی فراہمی سے متعلق معاہدے کی خلاف ورزی کے باعث 40 لاکھ سعودی ریال کے معاوضے کا معاملہ تاحال حل نہیں ہو سکا، جبکہ وزارت مذہبی امور کی جانب سے مؤثر اقدامات نہ کیے جانے کے باعث متاثرہ حجاج اب تک اپنے واجب الادا معاوضے سے محروم ہیں۔
رپورٹ میں وزارت خارجہ سے متعلق یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں میں باغات کی تزئین و آرائش کے نام پر قومی خزانے سے غیر مجاز اخراجات کیے گئے۔ دستاویزات کے مطابق ٹوکیو، بینکاک، شکاگو اور لاس اینجلس میں پاکستانی مشنز کے باغات پر 16 لاکھ 96 ہزار روپے قواعد کے برعکس خرچ کیے گئے۔
آڈیٹر جنرل نے متعلقہ اداروں کو بے ضابطگیوں کی تحقیقات، ذمہ داران کے تعین، رقوم کی وصولی اور مالی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کی سفارش کی ہے۔
مزید پڑھیں: حکومت نے کمرشل طیاروں کے جیٹ فیول کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر کمی کردی















