واشنگٹن (اے بی این نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں، معاہدے کے مطابق جمعے سے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ابراہم معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران ہے، ہم ایران کو ادائیگی کرنے کے پابند نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بہت جلد ایران معاہدے کی ہر بات سامنے لاؤں گا، ایران کا محاصرہ بہت اچھا ہوا، امریکی بحریہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کا دوسرا مرحلہ بہت تیزی سے آگے بڑھے گا۔ ایران خود مذاکرات چاہتا ہے تاکہ وہ دنیا میں ایک پرامن ملک کے طور پر رہ سکے۔ ایران مذاکرات مکمل کرکے ایک نارمل ریاست بننا چاہتا ہے۔ ہم سیٹلائٹ کیمروں سے ایران پر ہمیشہ نظر رکھیں گے۔ اگر ضرورت پڑی تو ہم ایرانی جوہری ہتھیاروں کے خلاف کارروائی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ شروع سے ہمارا مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنا تھا۔ آبنائے ہرمز جمعہ تک جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھل جائے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ جہازوں کی نقل و حرکت شروع ہو گئی ہے۔ میں واضح کرتا ہوں کہ آبنائے ہرمز ٹیکس سے پاک ہوگا۔ ہم ایران کے ساتھ مذاکرات کا متن باضابطہ طور پر جاری کریں گے۔ ایران میں طے پانے والے معاہدے کو کانگریس کی منظوری کی ضرورت نہیں ہے۔ میں ایران ڈیل کو نظرثانی کے لیے کانگریس کو بھیجوں گا۔ مجھے ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو کانگریس کو بھیجنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:گلگت بلتستان میں سیاسی جوڑ توڑ شروع، 4 آزاد امیدواروں کا بڑا فیصلہ















