اسلام آباد: اقتصادی سروے 2025-26 میں ملک کے سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت سے متعلق ایسے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں جو تعلیمی شعبے کے لیے تشویش کا باعث بن گئے ہیں۔ اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق ہزاروں سرکاری سکول اب بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جس کے باعث طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ملک بھر کے صرف 65 فیصد سرکاری سکولوں میں بجلی کی سہولت موجود ہے جبکہ 35 فیصد تعلیمی ادارے اب بھی بجلی سے محروم ہیں۔ سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں بجلی کی فراہمی کے تناسب میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
صوبائی سطح پر صورتحال مزید تشویشناک دکھائی دیتی ہے۔ بلوچستان میں صرف 21 فیصد جبکہ سندھ میں 32 فیصد سرکاری سکولوں کو بجلی کی سہولت میسر ہے۔ ماہرین کے مطابق جدید دور میں بجلی کی عدم دستیابی طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر کر رہی ہے۔
اقتصادی سروے 2025-26 میں بیت الخلا کی سہولت سے متعلق بھی اہم انکشافات کیے گئے ہیں۔ ملک کے 23 فیصد سرکاری سکولوں میں بیت الخلا موجود نہیں جبکہ بلوچستان میں یہ صورتحال انتہائی خراب بتائی گئی ہے۔ اسی طرح 24 فیصد سرکاری سکول پینے کے صاف پانی کی بنیادی سہولت سے بھی محروم ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سکولوں میں چاردیواری کی سہولت بھی متاثر ہوئی ہے۔ ملک کے 25 فیصد سرکاری سکولوں میں چاردیواری موجود نہیں جبکہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں اس سہولت کی شرح میں کمی دیکھی گئی ہے۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بنیادی سہولیات کی فراہمی پر فوری توجہ نہ دی گئی تو طلبہ کی تعلیم، حاضری اور مجموعی تعلیمی معیار مزید متاثر ہو سکتا ہے۔ سروے میں ان مسائل کو قومی تعلیمی نظام کے لیے ایک اہم چیلنج قرار دیا گیا ہے۔















