تہران (اے بی این نیوز) نوبل انعام یافتہ ایرانی انسانی حقوق کی کارکن نرگس محمدی کو ان کی صحت کی خرابی کے باعث جیل سے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق نرگس محمدی کی فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ انہیں دو مکمل دورے اور دل کا شدید دورہ پڑا، جس کے بعد طبیعت بگڑنے پر انہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔وہ ایران کے شمال مغربی شہر زنجان کی ایک جیل میں قید تھی جہاں وہ جمعے کے روز دو مرتبہ بے ہوش ہوگئیں۔ڈاکٹروں نے نرگس محمدی کی حالت تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جیل میں ان کا علاج ممکن نہیں ہے۔
واضح رہے کہ نرگس محمدی کو گزشتہ سال بارہ دسمبر کو مشہد میں گرفتار کیا گیا تھا اور فروری میں سات سال سے زائد قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس پر ریاست کے خلاف سازش اور دیگر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔نرگس کے اہل خانہ کے مطابق گرفتاری کے دوران انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا جس کے بعد ان کی طبیعت مسلسل بگڑتی گئی۔نرگس کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اسے سر، گردن اور جسم کے مختلف حصوں پر مارا گیا تھا۔نوبل کمیٹی نے فروری میں نرگس محمدی کے ساتھ “جان لیوا سلوک” کی مذمت کی۔
عرب میڈیا کے مطابق وہ اس سے قبل سیکیورٹی سے متعلق مقدمات میں 13 سال اور 9 ماہ کی سزا کاٹ رہی تھیں تاہم طبی وجوہات کی بنا پر 2024 کے آخر میں انہیں عارضی رہائی دی گئی تھی۔ایرانی حکومت نے ان پر تشدد کے الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
مزید پڑھیں:سعودی عرب نے حج کیلئے عمر کی نئی پابندی نافذ کردی















