لاہور(نیوزڈیسک)چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہاہے کہ اپریل میں الیکشن ہوتے نظر آرہے ہیں،ہم قومی اسمبلی میں واپسی کا پلان کررہےہیں،قومی اسمبلی میں نہ گئے تو یہ راجہ ریاض کے ساتھ ملکر نگران حکومت لے کر آئیں گے،ان میں اخلاقیات نام کی کوئی چیز نہیں،ن لیگ کے کچھ ایم این ایز ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں،ابھی بھی سیاسی انجینئرنگ جاری ہے،رن آف الیکشن ہوا تو موقع کے مطابق فیصلہ کریں گے،پیپلزپارٹی دھاندلی کے بغیر نہیں جیت سکتی، مجھے مکمل صحت یاب ہونے میں2ہفتے لگیں گے،مجھ پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات کرنیوالی جے آئی ٹی پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،پیر کو سینئر صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ملک کو اس دلدل سے کوئی ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ نہیں نکال سکتا، ہم اس ملک میں سب سے پہلے صاف شفاف انتخابات چاہتے ہیں، ہم کسی سے مدد نہیں مانگ رہے، صرف ملک میں جمہوریت چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ50 سال میں ملک میں کوئی ڈیم شروع نہیں کیا گیا، فخر ہے میری حکومت میں پہلی دفعہ 10 ڈیمزشروع کیے گئے،انہوں نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں تباہی ہورہی ہے، ہماری حکومت نے اسی لیے بلین ٹری سونامی شروع کیا تھا، ملک میں پرانے جنگلوں کو ختم کر دیا گیا، بے دردی کے ساتھ ملک میں جنگلات کوختم کیا گیا، 10 بلین ٹری بہت ضروری ہے، انہوں نے کہاکہ کراچی میں نالوں کے اوپرگھربن گئے، سندھ میں بڑے، بڑے طاقتور اپنی زمینیں بچانے کے لیے دوسری طرف پانی چھوڑ دیتے ہیں۔ان کاکہنا تھا کہ پاکستان ڈیفالٹ کی طرف جا رہا ہے، بجلی، پٹرول، ڈیزل کی قیمت اوپر جا رہی ہے، مجھے خوف ہے جب تک سیاسی استحکام نہیں آتا تب تک معاشی استحکام نہیں آسکتا، اگرمعاشی استحکام نہ آیا تو مجھے خوف آرہا ہے، خدشہ ہے قرض دینے والے ممالک ہماری نیشنل سیکیورٹی کو کمزور کر دیں گے، ملک میں سیاسی استحکام صرف الیکشن سے آ سکتا ہے، اگر پاکستان ڈیفالٹ ہو گیا تو زیادہ مسائل پیدا ہوں گے۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت میں ڈالر178اورچھ فیصد گروتھ تھی، ہمارے دورمیں ریکارڈ ٹیکس اکٹھا ہورہا تھا، بیرون ملک سے پاکستانیوں نے31ارب ڈالر بھیجے، ملک ترقی کی راہ پر گامزن تھا، تب سازش کرکے حکومت گرائی گئی، جن کے پاس سب سے زیادہ طاقت ان کو خبردار کیا تھا، ہم نے کہا اگر اس وقت عدم استحکام آیا تو کسی سے بھی معیشت نہیں سنبھالی جائے گی، ان کے پاس معیشت سنبھالنے کا کوئی پلان نہیں تھا، یہ لوگ صرف اپنے کیسز کو ختم کروانا چاہتے تھے، آئی ایم ایف نے ان پر زور لگایا تو انہوں نے قیمتیں بڑھا دیں، ہماری حکومت بھی آئی ایم ایف پروگرام میں تھی لیکن عوام کوسبسڈی دی، موجودہ حکومت سے معاشی حالات نہیں سنبھالے جارہے، عالمی اداروں نے پاکستان کی ریٹنگ کونیچے کردیا ہے۔















