پشاور (نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا کہ آج کے پی اسمبلی کو تحلیل کر دیا جائے گا، جوحالات اس حکومت نے کر دیے ہیں عالمی سطح پر ان پر کوئی یقین ہی نہیں کرتا، اب ہم دو بارہ زیرو سے شروعات کریں گے۔پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان نے کہا کہ پتا نہیں کون وفاقی حکومت کو مشورے دے رہاہے ، آپ لوگوں نے تو ملک کا بیڑا غرق کر دیاہے ،گورنر خیبر پختون خوا تو کٹھ پتلی ہیں ، ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہیے ،اگلی بار دو تہائی اکثیریت سے آئیں گے،عوام کو موجودہ حکومت پر یقین نہیں ہے ، وفاقی حکومت اپنا اقتدار نہیں سنبھال سکتی ،تیرہ لاکھ میٹرک ٹن گندم صوبہ خود پیدا کر رہاہے، باقی خریدتے ہیں پچاس لاکھ میٹرک ٹن گندم صوبے کی ضرور ت ہے ،متوسط طبقے کے لوگ مہنگائی سے پریشان ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کے اور ضم علاقوں کو وفاق کے فنڈ نہیں مل رہے ،وفاق نے ہمارے فنڈز روک رکھے ہیں، ہم اپنے فنڈز میں سے فاٹا کے ملازمین کو تنخواہیں دے پا رہے ، فاٹا ملازمین کی تنخواہوں کے پیسے وفاق کی جانب سے ہی نہیں بھجوا ئے جارہے ہیں۔















