اہم خبریں

پاکستان میں آئین کی بحالی، شفاف الیکشن تک امداد روکی جائے، امریکی کانگریس کا انتھونی بلنکن کو خط ارسال

نیویارک(نیوزڈیسک)فلسطینی نژاد امریکی الہان عمر سمیت امریکی کانگریس اراکین کی جانب سے امریکی حکومت کو لکھے گئے خط میں کہا کہ شفاف الیکشن تک پاکستان کی امداد روک دی جائے۔کانگریس کے11 ارکان نے امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کو لکھے گئے خط میں بائیڈن انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ جب تک ملک میں آئین بحال نہیں ہوجاتا اور آزادانہ اور منصفانہ انتخابات نہیں ہوجاتے تب تک پاکستان کیلئے مستقبل میں امریکی امداد روک دے نہیں ہوجاتے ہیں۔قانون سازوں نے محکمہ خارجہ سے قانونی تعین کی درخواست کی تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ آیا امریکی امداد نے پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں سہولت فراہم کی ۔خط میں لکھا گیا ہے کہ مستقبل امداد اس وقت تک روک دی جائے جب تک کہ پاکستان فیصلہ کُن طور پر آئینی نظام کی بحالی کی جانب نہیں بڑھتا، جن میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد شامل ہے، جس میں تمام جماعتیں آزادانہ طور پر حصہ لینے کے قابل ہوں۔اس اقدام کا آغاز کانگریس کی خاتون رکن الہان عمر نے کیا تھا، جو امریکی کانگریس میں مسلم کاز کی چیمپئن ہیں، جبکہ دیگر دستخط کنندگان میں فرینک پیلون جونیئر، جوکین کاسترو، سمر لی، ٹیڈ ڈبلیو لیو، ڈینا ٹائٹس، لائیڈ ڈوگیٹ اور کوری بش شامل ہیں۔ان میں سے زیادہ تر کانگریس کے اندر ترقی پسند گروپ کے ارکان ہیں، جس نے واشنگٹن میں مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور غزہ میں فوری جنگ بندی کے مطالبے کے لیے منعقدہ احتجاجی جلسوں اور ریلیوں میں بھی شرکت کی ہے۔خط میں گستاخی مذہب کے حوالے سے حالیہ قانون سازی کا بھی ذکر کیاگیا اور کہا گیا کہ اس وجہ سے بھی پاکستان کی امداد روکی جائے۔خط میں وکیل ایمان مزاری کا بھی تذکرہ کیا گیا، جنہیں جبری گمشدگیوں کے خلاف ایک ریلی میں تقریر کرنے کے بعد بغیر وارنٹ گرفتاری کے صبح 3 بجے ان کے گھر سے لے حراست میں لے لیا گیا تھا۔خط میں اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے پر زور دیا گیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیاسی مخالفین کی سماعتوں اور دیگر قانونی کارروائیوں کے لیے مبصرین بھیجے، جن میں ایمان مزاری، خدیجہ شاہ اور عمران خان کے مقدمات شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں