اہم خبریں

آئی ایم ایف اور پاکستان بجٹ

نئے بجٹ میں ٹیکس نیٹ بڑھانے اور اخراجات کم کرنے پر آئی ایم ایف کا زور

پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان نئے مالی سال کے بجٹ پر مشاورت کا عمل جاری ہے، جبکہ آئی ایم ایف اور پاکستان بجٹ مذاکرات میں اہم معاشی اہداف پر اتفاق رائے سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو مزید وسیع کیا جائے اور غیر ضروری اخراجات میں کمی لائی جائے تاکہ معیشت کو مستحکم بنایا جا سکے۔

اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف مشن نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ، معاشی اصلاحات اور مالی نظم و ضبط پر تفصیلی گفتگو کی۔ وفد کی قیادت مس Eva Petrova نے کی، جنہوں نے حکومتی حکام کے ساتھ مختلف معاشی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

حکومتِ پاکستان نے اس موقع پر مالی سال 2027 میں جی ڈی پی کے 2 فیصد کے برابر بنیادی سرپلس حاصل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ مالی استحکام اور معاشی بہتری کے لیے یہ ہدف انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

آئی ایم ایف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹیکس وصولی کے نظام کو جدید بنایا جائے اور ایسے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے جو اب تک اس دائرے سے باہر ہیں۔ اس کے علاوہ وفاقی اور صوبائی سطح پر مالیاتی نظم و نسق بہتر بنانے کی تجاویز بھی زیر غور آئیں۔

مذاکرات میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور اس کے ممکنہ معاشی اثرات پر بھی بات کی گئی۔ ذرائع کے مطابق فریقین نے آئندہ دنوں میں بھی بجٹ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ اصلاحاتی ایجنڈے کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں