لندن (نیوزڈیسک)بھارتی نژاد برطانوی وزیراعظم رشی سونک پر برطانوی وزیرداخلہ سویلا بریورمین کو برطرف کرنے کا دباؤ بڑھنے کے بعد رشی سونگ نے بھارتی نژاد خاتون وزیرداخلہ کو برطرف کردیا ۔ ذرائع کے مطابق وزیرداخلہ نے ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مشورے کو نظر انداز کرتے ہوئے میٹروپولیٹن پولیس پر سیاسی تعصب کا الزام لگاتے ہوئے ایک دھماکہ خیز مضمون شائع کیا تھا۔جس پر برطانیہ بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا ، سیاسی رہنمائوں اور عوام کی وزیر اعظم کے کمزور ہونے کا طعنہ جو وزیر داخلہ کو ہٹانے کے قابل نہیں وزراء نے سینئر پولیس افسران کے ساتھ مل کر سویلا بریورمین پر فلسطینیوں کے حق میں مارچ سے قبل ”نفرت اور تقسیم“ پھیلانے کا الزام لگایا۔پانچ اپوزیشن جماعتوں نے عوامی طور پرسویلا کو وزیرداخلہ کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے سیکریٹری داخلہ پر اعتماد برقرار رکھا ہے۔سویلا بریورمین کے حامیوں کو مشتعل کرنا سونک کیلئے ہائی رسک حکمت عملی ہوسکتی ہے۔برطانوی وزیراعظم رشی سونک نے بھارتی نژاد خاتون وزیر داخلہ سویلا بریورمین کو برطرف کردیا ۔گزشتہ دنوں ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سویلا بریورمین کے حامیوں کو مشتعل کرنا سونک کے لئے ایک ہائی رسک حکمت عملی ہوسکتی ہے۔شمالی آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اس مضمون نے اسٹورمونٹ میں افعال جمہوریت کی واپسی کے امکانات کو نقصان پہنچایا۔ان کا کہنا تھا کہ جب بریورمین نے وسطی لندن میں ہونے والے حالیہ مظاہروں کو “بعض گروہوں خاص طور پر اسلام پسندوں کی طرف سے بالادستی کا دعویٰ “ قرار دیا تھا جس طرح ہم شمالی آئرلینڈ میں دیکھنے کے عادی ہیں۔لیبر پارٹی نے بریورمین کے ریمارکس پر سونک پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی اور وزارتی قوانین کی واضح خلاف ورزی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔شیڈو کابینہ کے وزیر پیٹ میک فیڈن نے سونک کو خط لکھ کر متنبہ کیا تھا کہ ’کچھ نہ کرنا‘ ’کمزوری کا مظاہرہ‘ ہوگا۔















