اہم خبریں

فوجی ٹرائل سے قبل عدالت کو آگاہ کیا جائے گا،مارشل لا لگا تو مداخلت کرینگے،چیف جسٹس

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سپریم کورٹ نے فو جی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف کیس میں حکم امتناعی جاری کرنے کی استدعا مسترد کردی اور تحریری حکم میں کہاہے اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی زیر حراست شہری کا ملٹری ٹرائل شروع نہیں ہوا اور فوجی ٹرائل سے قبل عدالت کو آگاہ کیا جائیگا۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے ریمارکس میں کہا حکومت چلی بھی گئی تو حکم کی خلاف ورزی پرذمہ دارکوطلب کرکے جواب لیں گے ، موجودہ دور کا ضیادور سے موازنہ نہ کیا جائے ،مارشل لا لگا تو مداخلت کریں گے ، ملٹری ایکٹ کے تحت پراسیکیوشن ہی کیس کافیصلہ کرے گی اوراپیل سنے گی لیکن اس کیس میں جوبھی ہوگا وہ قانون سازی کے ذریعے ہی ممکن ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا ملزموں کے اہلخانہ کو فوجی عدالتوں میں ٹرائل دیکھنے کی اجازت دی جائے گی جبکہ ملٹری کورٹ سے سزا کے خلاف ملزموں کو اپیل کا حق دینے سے متعلق عدالتی سوال پر انہوں نے جواب کیلئے ایک ماہ کی مہلت کی استدعا کردی تاہم عدالت نے مہلت دیتے ہوئے کیس کی اگلی سماعت یکم اگست کو مقرر کردی۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل 6 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پچھلی سماعت پر 9 مئی کی منصوبہ بندی سے کیے گئے حملو ں کی تفصیلات سامنے رکھیں، تصاویری شواہد سے ثابت ہے کہ حملے میں ملوث تمام افراد کے چہرے واضح تھے ۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ کس کا ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہوگا کس کا نہیں؟ اس کا انتخاب کیسے کیا گیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس واقعے کے بعد صرف 102 افراد کو بہت محتاط طریقے سے کورٹ مارشل کیلئے منتخب کیا گیا، دوبارہ سے کہنا چاہتا ہوں جو 9 مئی کو ہوا ایسا تاریخ میں کبھی نہیں ہوا، جو 9 مئی کو ہوا اس کی اجازت مستقبل میں دوبارہ نہیں دی جاسکتی، آرمی اور ایئرفورس کی تنصیبات پر حملے ہوئے ، میانوالی میں ایئربیس پر بھی حملے کئے گئے ان حملوں پر جو ردعمل تھا وہ ایسا نہیں تھا جو ہونا چاہئے ، میں نے 9 مئی کے پیچھے منظم منصوبے کی بات کی تھی، ہم بہت محتاط ہیں ، 102 افراد کیخلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کیلئے بہت احتیاط برتی گئی ہے ، 9 مئی جیسا واقعہ ملکی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا، مستقبل میں ایسے واقعات کا تدارک کرنا ہے ، میانوالی میں ایئرکرافٹ پر حملہ ہوا ایسا آرڈیننس فیکٹری یا کسی اور جگہ بھی ہوسکتا تھا۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ایک بار پھر استفسار کیا کہ کس طریقہ کار کے تحت لوگوں کو فوجی تحویل میں لیاگیا ؟ اٹارنی جنرل نے جواب میں بتایا کہ آرمی ایکٹ میں سول جرائم کی بات واضح ہے ۔اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ آرمی ایکٹ کا سیکشن 2 پڑھیں جس میں سویلینز کے ٹرائل کی بات ہے ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمی ایکٹ سیکشن 2 کے مطابق کوئی سویلین دفاعی کام میں رخنہ ڈالے تو وہ اس قانون کے نرغے میں آتا ہے ، آرمی ایکٹ کے مطابق اگرکوئی سویلین افواج کا ڈسپلن خراب کرے تو بھی قانون کے دائرے میں آتا ہے ۔جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ افواج کا ڈسپلن کیسے خراب ہوا؟ فوجی افسرکے کام میں رخنہ ڈالنا اور ڈسپلن خراب کرنا قانون میں درج ہے یا اخذکیاگیا؟عدالت کے استفسار پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمی ایکٹ پر بنیادی انسانی حقوق کا اطلاق نہیں ہوتا، جس پر جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ کیا آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل میں آنے والے بنیادی انسانی حقوق سے خارج ہوں گے ؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایسا ایکٹ میں لکھا گیا ہے ،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا کسی آرمی افسر کو زخمی کرنا اس کو اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے روکنے کے مترادف ہوگا؟ کسی فوجی کا جھگڑا کسی سویلین کے ساتھ ہو تو ٹرائل کیسے ہوگا؟ قانون بالکل واضح ہونا چاہئے ، ایک طرف درج ہے کہ ریاست انسانی حقوق سے ماورا کوئی قانون نہیں بناسکتی، دوسری طرف آپ کہہ رہے ہیں کہ اس مخصوص قانون میں تو انسانی حقوق کا اطلاق ہوتاہی نہیں، آپ کی دلیل کی منطق سمجھنے سے قاصر ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی انصاف کی بنیاد ہے ، ملٹری ایکٹ کے تحت پراسیکیوشن کیس کا فیصلہ کریگی، اپیل بھی سنے گی، فوجی عدالت کے فیصلے کیخلاف کسی آزادانہ فورم پراپیل کاحق بنیادی حقوق کی ضمانت ہے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سویلین پر فوجی ایکٹ کے اطلاق کیلئے 21 ویں ترمیم کی گئی تھی، سویلین پر آرمی ایکٹ کے اطلاق کیلئے شرائط رکھی گئیں، 21 ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم کردہ فوجی عدالتیں مخصوص وقت کیلئے تھیں۔جسٹس یحیی آفریدی نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ جیسے دلائل دے رہے ہیں لگتا ہے اپنی ہی کہی ہوئی بات کی نفی کررہے ہیں، کیا آرمی ایکٹ بنیادی انسانی حقوق کے دائرے سے خارج ہے ؟ اٹارنی جنرل نے کہا جی آرمی ایکٹ پر بنیادی انسانی حقوق کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اٹارنی جنرل نے آرمی ایکٹ 2015 کا سیکشن 2(1) بی عدالت میں پڑھ کر سنایا۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آرمی ایکٹ 2015 میں زیادہ زور دہشتگرد گروپس پر دیا گیا ہے ۔دوران سماعت تیز بارش کے باعث عدالتی کارروائی میں خلل آیا تو جسٹس یحییٰ آفریدی نے اٹارنی جنرل کو کہا تیز آواز سے دلائل دیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایکٹ میں افراد کا تذکرہ بھی موجود ہے ، سول جرائم اور سویلنز کی جانب سے کئے گئے جرائم میں فرق ہے ، 2 ون ڈی کے تحت ہونے والے جرائم پر ہی ملٹری کورٹس میں ٹرائل ہوں گے ، ملٹری ٹرائل کے دوران ملزموں کو وکیل کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے ، ملزم فوج کی لیگل برانچ کا افسریا پرائیویٹ وکیل بھی مقرر کرسکتے ہیں، ملٹری کورٹس ٹرائل میں ملزم کو اقبال جرم یا صحت جرم سے انکارکا آپشن دیاجاتا ہے ، ملزم کے اقبال جرم پر سزا سنادی جاتی ہے اور صحت جرم سے انکار پر ملزم کاباقاعدہ ٹرائل شروع ہوجاتا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ فوجی عدالتوں میں ملزموں کو اپنے دفاع کیلئے بہت کم وقت دیا جاتا ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملٹری ٹرائلز میں ملزموں کو اپنے دفاع کا پورا وقت دیا جاتا ہے ،آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل میں بھی فیصلہ کثرت رائے سے ہوتا ہے ، سزائے موت کی صورت میں فیصلہ دو تہائی سے ہونا لازمی ہے ، سزائے موت کا موجودہ کیس سے تعلق نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس میں جو بھی ہوگا وہ قانون سازی کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔اس موقع پر درخواست گزاروں کے وکیل نے ٹرائل پر حکم امتناعی جاری کرنے کی استدعا کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ ٹرائل ابھی شروع نہیں ہوا تو حکم امتناعی کس چیز کا۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ عدالت کا 27جون کا آرڈر اب بھی ویلڈ ہے ؟جس کے جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرڈر اب بھی موجود ہے ۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو کہا آپ کے مطابق ابھی ٹرائل شروع نہیں ہوا تفتیش چل رہی ہے ، ملٹری ٹرائل شروع ہونے سے قبل عدالت کو آگاہ کیا جائیگا، نوٹ کر رہے ہیں کہ کوئی ٹرائل نہیں شروع کیاجائیگا، شواہد ریکارڈ کیے جائیں گے اور ٹرائل کھلی عدالت میں ہوگا۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سوال کیا کہ ملزموں کو سیل میں رکھا گیا ہے یا کمروں میں؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ملزموں کو جیل میں ہی رکھا گیا ہے لیکن دہشتگردوں کی طرح نہیں، گرفتار افراد کو تمام ترضروری سہولتیں دی گئی ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ گرفتار افراد کو دماغی یا جسمانی مشکلات کا شکار نہیں ہونا چاہیے ،ہم کسی ریٹائرڈ جج کو 102 افراد سے ملاقات کیلئے فوکل پرسن مقرر کر سکتے ہیں،جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس حوالے سے میں آپ کو ان چیمبر بتائوں گا، چیف جسٹس نے کہا ہم چاہتے ہیں زیر حراست افراد کو بنیادی حقوق ملنے چاہئیں، زیر حراست افراد کو اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت ہونی چاہیے ،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ ضیا الحق کے دور میں ہوتا رہا، چیف جسٹس نے کہا کہ موجودہ دور کا ضیا الحق کے دور سے موازنہ نہ کریں، اگر ملک میں مارشل لا لگا تو ہم مداخلت کریں گے ۔عدالت نے درخواست گزار وکیل کی حکم امتناعی جاری کر نے کی استدعا مسترد کی اور اٹھ کر چلی گئی۔بعد ازاں سپریم کورٹ کی طرف سے جاری تحریری حکم میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے اپیل کا حق دینے کے معاملے پر وقت مانگا ہے ، اٹارنی جنرل کو ہدایات لینے کیلئے وقت دیا جاتا ہے ، اٹارنی جنرل کے کیس کے میرٹس پر دلائل جاری ہیں،اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں عدالت کو یقین دہانیاں کراتے ہوئے کہا ہے ابھی تک زیر حراست کسی شہری پر سزائے موت یا عمر قید کی دفعہ نہیں لگائی، کسی زیر حراست شہری کا ملٹری ٹرائل شروع نہیں ہوا،عدالت کو پیشگی بتائے بغیر ملٹری ٹرائل شروع نہیں ہوگا، دوران سماعت ملزم شہریوں کے اہلخانہ اور قانونی ٹیم موجود ہوگی، فوجی عدالت میں عام کورٹس کی ہی طرح قانون کے مطابق شواہد ریکارڈ کیے جائیں گے ، ملٹری کورٹس کے فیصلے میں تفصیلی وجوہات بھی دی جائیں گی،سپریم کورٹ نے قراردیا ہے کہ کیس کی اگلی سماعت یکم اگست کو ہوگی۔

متعلقہ خبریں