تیل کی قیمتوں میں کمی اس وقت دیکھنے میں آئی جب امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور حملوں کے باوجود عالمی منڈی نے نسبتاً مثبت ردعمل دیا۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت تقریباً دو فیصد کم ہو کر 76 ڈالر فی بیرل کے قریب آ گئی۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی مارکیٹ کو متاثر کیا تھا، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس دوران برینٹ خام تیل تقریباً 79 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل تقریباً 74 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
ماہرین کے مطابق اس ہفتے کے آغاز میں سرمایہ کاروں کو خدشہ تھا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی سلامتی سے متعلق خدشات نے مارکیٹ پر دباؤ بڑھایا۔
ادھر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان، جس میں انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ختم ہو چکا ہے، کے بعد بھی تیل کی قیمتوں میں عارضی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ تاہم بعد ازاں عالمی منڈی میں خرید و فروخت کے رجحان میں تبدیلی کے باعث قیمتیں دوبارہ نیچے آ گئیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سرمایہ کار خطے کی سیاسی پیش رفت، توانائی کی سپلائی اور عالمی طلب پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اتار چڑھاؤ کا امکان برقرار رہے گا۔















