اسلام آباد(اے بی این نیوز )چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف غیرشرعی نکاح کیس پر دائر اپیل منظور کرلی گئی ہے۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد کے سیشن جج اعظم خان نے چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف غیر شرعی نکاح کیس پر دائر اپیل منظور کرلی۔عدالت نے غیر شرعی نکاح کیس قابل سماعت قرار دیتے ہوئے سول جج نصر مِن اللہ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔واضح رہے کہ سول جج نصرمِن اللہ نے چیرمین پی ٹی آئی کے خلاف غیر شرعی نکاح کیس ناقابلِ سماعت قرار دیا تھا، عدالت نے ریمارکس دیے کہ دوران عدت نکاح کا معاملہ عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔13 مئی کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں سول جج نصرمن اللہ نے عمران خان اوربشریٰ بی بی کے خلاف عدت کے دوران نکاح کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل راجہ رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے دوران وکیل راجہ رضوان عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدت کے دوران شادی غیر قانونی ہے، ایسا کہنا فراڈ ہے کہ 2018 کے پہلے دن شادی کریں گے تو وزیرِ اعظم بن جائیں گے۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ جنوری 2018 میں بشریٰ بی بی عدت میں تھیں، ان کی طلاق نومبر میں ہوئی تھی۔ اگر شادی قانونی تھی تو دوبارہ نکاح کیوں کیا، بنی گالہ سے فراڈ شروع ہوا اور نکاح لاہور میں ہوا۔جج نے سوال کیا کہ عمران خان کا نکاح لاہور میں ہوا، اس عدالت کا دائرہ اختیار کیسے بنتا ہے؟وکیل راجہ رضوان عباسی عدالت کو بتایا کہ نکاح خواں کو بھی اسلام آباد سے نکاح کے لیے لے جایا گیا، فروری 2018 میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کا نکاح دوبارہ اسلام آباد میں پڑھایا گیا۔















