اسلام آباد (اے بی این نیوز )عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان قرض پروگرام کی مدت ختم ہونے میں ایک روز باقی رہ گیاہے، تاہم پاکستان اسٹاف لیول معاہدے کیلئے پراُمیدہے۔
وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کیساتھ اسٹاف لیول معاہدے کیلئےشرائط پوری کردی ہیں، اورپاکستان اورآئی ایم ایف میں معاملات اصولی طورپرطےپاگئے،جس کے بعد اگلےایک سے2روزتک آئی ایم ایف کی جانب سےتصدیق متوقع ہے ، اورپاکستان کو اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت 2.6 ارب ڈالر ملنے کا امکان ہے،پاکستان کو یہ رقم قسطوں میں مل سکتی ہے۔گزشتہ دنوں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے مشن چیف نیتھن پورٹر نے کہا تھاکہ پاکستان کے ساتھ جلد معاہدے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھیں گے۔آئی ایم ایف مشن چیف نے پاکستان کی جانب سے حال ہی میں کی جانے والی کوششوں کا بھرپور اعتراف کیا ،اور کہا کہ پاکستان کے ساتھ جلد معاہدے کیلئے کوششیں کررہے ہیں، پاکستان نےپالیسیوں کو مزید ہم آہنگ بنانے کیلئے فیصلہ کن اقدامات کیے، پاکستانی معاشی فیصلہ سازی سے قرض پروگرام کے معاملات میں بہتری ہوئی، پارلیمنٹ سےمنظوربجٹ میں ٹیکس آمدن بڑھنا احسن قدم ہے، ٹیکس آمدن بڑھنے سے پاکستان سماجی شعبے کیلئے فنڈنگ دستیاب ہو سکے گی۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس آمدن بڑھنے سےپاکستان میں ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز مہیا ہو سکیں گے، مانیٹری پالیسی میں سختی سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی، فارن ایکسچینج مارکیٹ میں بہتری سےبیلنس آف پیمنٹ کادباؤکم ہو گا، آئی ایم ایف پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گا۔آئی ایم ایف کے مطالبات کے مطابق بجٹ پر نظر ثانی کرنے کے بعد حکومت کو اشد ضروری بیل آؤٹ فنڈز حاصل کرنے کے لیے آئندہ چند روز میں عالمی قرض دہندہ ادارے کی جانب سے منظوری کے اعلان کی توقع ہے۔پاکستان میں حکام نے کہا کہ اب ان مطالبات کو پورا کرلیا گیا ہے، گزشتہ روز ایک عہدیدار نے کہا کہ ’آئی ایم ایف کے عملے اور وزارت خزانہ کے درمیان تقریباً تمام اضطرابی مسائل کو وزیر خزانہ کی اختتامی بجٹ تقریر سے چند گھنٹے قبل دور کر دیا گیا تھا‘، نویں جائزے کی کامیاب تکمیل کے بارے میں اعلان آئی ایم ایف کا استحقاق ہے اور اب محض رسمی کارروائی ہے۔















