اسلام آباد ( اے بی این نیوز )آج سالانہ منصوبہ بندی کمیٹی کا اجلاس ہو رہا ہے،ترقیاتی منصوبوں کو این ای سی میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا ،چار سال قبل ترقیاتی بجٹ 1000 ارب روپے تھا ،چار سال بعد ترقیاتی بجٹ 550 ارب روپے رہ گیا،اس سے ملکی ترقیاتی منصوبے متاثر ہوئے،وژن 2025 کے تحت روڈ میپ طے کیا گیا تھا اس کو ردی کی ٹوکری میں پھینکا گیا،ملکی معیشت کو روزانہ کی بنیادیں پر چلایا گیا ،اس سے ملکی معیشت متاثر ہوئی،وفاقی وزیر احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ ترقیاتی بجٹ 1100 ارب روپے مختص کیا جائے گا،950 ارب روپے پی ایس ڈی پی کے لیے مختص کیے جائیں گے،150 ارب روپے پبلک پارٹنرشپ کے منصوبے شروع ہوں گے۔















