اہم خبریں

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس شرعی عدالت کی تقریب حلف برداری کی وڈیو سے متعلق وضاحت جاری کردی

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ گزشتہ روز جسٹس اقبال حمید الرحمان نے بطور چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت حلف اٹھایا، پروگرام کے بعد فوراً ان کی اہلیہ کے پاس سلام کرنے اور مبارکباد دینے گیا،
میری وہاں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال سے ملاقات ہوئی اور میں نے انہیں سلام کیا، اس کے بعد شریعت کورٹ کے سابق عالم جسٹس سید انور علی سے گفتگو کے لیے گیا جہاں چیف جسٹس پاکستان بھی ان سے ملنے پہنچے، کسی نے وہ لمحہ ریکارڈ کیا اور غلط طور پر اس بات کا اضافہ کر دیا کہ میں نے چیف جسٹس پاکستان کو سلام نہیں کیا، چند منٹ پہلے چیف جسٹس پاکستان سے سلام کر چکا تھا، میرے مڑنے کی وجہ یہ تھی کہ جسٹس اقبال حمیدالرحمان کی اہلیہ اپنے رشتے داروں سے میرا تعارف کروانا چاہتی تھیں، اس عمل کی میڈیا میں غلط تعبیرات سامنے آئی ہیں،میری درخواست ہے خلاف حقیقت خبریں نہ پھیلائی جائیں یہ کیوں کہ یہ غیر ضروری غلط فہمیوں اور نقصان کا سب بنتی ہیں، گٹھ جوڑ کیوجہ سے گھڑی گئی جھوٹی کہانیوں کا ماضی قریب میں نشانہ بننے کی وجہ سے مجھے اور میرے خاندان کو اس تکلیف کا بخوبی اندازہ ہے، یہ بات بھی خلاف حقیقت ہے کہ میں نے سپریم کورٹ میں قصداً ایک الگ گروپ بنایا ہوا ہے، میں آئین کے تحفظ اور دفاع کے لیے اپنے حلف کا پابند ہوں اور اس کے خلاف کسی چیز کی تائید نہیں کر سکتا، ہمیں غیر ضروری امور میں پڑنے کی بجائے ملکر ایسا مضبوط عدالتی نظام تعمیر کرنا چاہیے جس میں ساری توجہ فوری انصاف کی فراہمی پر ہو۔

متعلقہ خبریں