اہم خبریں

پاکستان میں سالانہ دو کے ٹو پہاڑ کے مساوی پلاسٹک کا کچرا پیدا ہو رہا ہے، شیریں رحمان

اسلام ااباد ( اے بی این نیوز   )لیڈرز ان اسلام آباد بزنس سمٹ کے دوسرے دن کا آخری سیشن سے وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی شیریں رحمان نے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ ترقی یافتہ ملک کیا کلائمٹ فنانسنگ کے لئے کچھ کررہا ہے۔ فرانس میں کلائمیٹ فنانسنگ کیلئے کانفرنس جون میں ہو گی، عالمی مالیاتی ادارے اس لئے بنائے گئے کہ ترقی پذیر ملکوں کی معاونت کریں، فرانس میں ہونے والی کانفرنس عالمی مالیاتی نظام کی تنظیم نو کرے گی جس میں کلائمنٹ فنانس بھی شامل ہے۔ پاکستان نے کوپ 27 میں ایک موقع حاصل کیا اور ایک گروپ کو متحدہ کیا ہے،پاکستان ماحولیاتی آلودگی کے اہداف کو حاصل کر لے گا، پاکستان کی مقامی سطح پر آلودگی ہے، مگر عالمی سطح پر آلودگی میں کوئی کردار نہیں ہے،موجودہ مالیاتی نظام کلائمنٹ فنانس اہداف کے لئے موزوں نہیں ہے، ماحولیاتی تبدیلی سے بچاو کے منصوبوں کیلئے ہزاروں ارب ڈالر کی ضرورت ہے،بھارت ہمارے پڑوس میں ایک بڑا آلودگی پھیلانے والا ملک ہے،پلاسٹک کو عالمی سطح پر ختم کیا جارہا ہے، پاکستان کو بھی پلاسٹک کو ختم کرنا ہو گا، پلاسٹک ہمارے سمندروں میں جا رہا ہے،پاکستان میں سالانہ دو کے ٹو پہاڑ کے مساوی پلاسٹک کا کچرا پیدا ہو رہا ہے،ان صنعتوں کو معاونت کی جائے جو کہ اپنے کاوربار اور کاموں کو گرین منتقل کررہے ہیں، شیری رحمان بڑی صنعتیں اور کمپنیاں سب سے بڑی آلودگی پھیلانے والی ہیں،شام کو مارکیٹس کیوں 6 بجے کے بعد کھلی رہتی ہیں، پاکستان کا عالمی فضائی آلودگی میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، مگر یہاں ہم 45 ڈگری کا درجہ حرارت برداشت کررہے ہیں،اگر میں کوئی سیاسی بات کہوں گی تو یہ کانفرنس شہ سرخیوں میں ہوگی، پاکستان ماحولیات کے حوالے سے مسقبل کے لئے تیار نہیں ہے،اپنی معیشت کو ہر سال جی ڈی پی کا 9 فیصد نقصان نہیں پہنچاسکتے ہیں،پاکستان کی ماحولیاتی پروگرامات پر عملدرآمد کرانے کی صلاحیت بھی بہت کم ہے،پاکستان میں ارلی وارننگ نظام بنانا ہوگا۔ پاکستان میٹ ڈیپارٹمنٹ موجود ہے۔ اس کو اپ گریٹ کرنے کی ضرورت ہے۔دیامیر بھاشا کے لئے کنسورشیم فنانس کی ضرورت ہے۔کرونا اور یوکرین جنگ کے بعد انٹرنیشل کنسورشیم فنانسنگ دستیاب نہیں ہے۔ گلیشیئر پھٹتے ہیں تو وہ پلوں اور چھوٹے ڈیمز کو بہا کر لے جاتے ہیں۔ کمیونٹیز کو آگاہ کررہے ہیں کہ ارلی وارننگ سسٹم لگایا جارہا ہے۔ اور متوقع پھٹنے والی جھیلوں اور گلیشئر کی نشاندہی کرتے ہیںسیاچن دنیا کا سب سے بڑا جنگی میدان ہے، اور سیاچن گلیشئیر بہت تیزی سے پگھل رہا ہے،پانی کی کمی فی الحال نہیں ہو گی، ضرورت ہے کہ اس پانی کے استعمال کو کنٹرول کیا جائے،قحط سالی اور سیلاب ماحولیاتی تبدیلی کی بہترین مثال ہیں،پاکستان کو شدید ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے،پاکستان کو شدید نقصانات پہنچے ہیں، اور ہمارا طرز زندگی تبدیل نہیں ہو رہا،دنیا میں موجود چھوٹے جزیرے اگلے 8سال میں ختم ہو جائیں گے،پاکستان میں اب بھی لوگ گھروں میں گاڑیاں دھونے میں ہزاروں گیلن ضائع کر دیتے ہیں،میں سی ڈی اے کہوں گی کہ لوگوں کے گھروں کے پانی پر میٹر لگائے جائیں۔

متعلقہ خبریں