اہم خبریں

مردم شماری میں شہری وہی شمار ہونگے جہاں وہ رہائش پذیر ہیں، ادارہ شماریات

اسلام آباد(نیوزڈیسک) ادارہ شماریات کے ایک عہدیدار نے واضح کیا کہ مردم شماری کے دوران ’لوگوں کو اس علاقے یا شہر میں شمار کیا جائے گا جہاں وہ رہتے ہیں اور جہاں کے وسائل وہ استعمال کررہے ہیں، اس بات سے قطع نظر کہ ان کے شناختی کارڈ پر کہاں کا پتہ درج ہے۔ رپورٹ کے مطابق پہلی مرتبہ ملک میں ڈیجیٹل مردم شماری کرنیوالی ٹیموں نے اب تک صوبے میں 3 کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ افراد کو شمار کرلیا ہے، جن میں سے 85 لاکھ صرف کراچی میں مقیم ہیں۔تازہ اعداد و شمار چیف مردم شماری کمشنر ڈاکٹر نعیم ظفر نے مردم شماری کے حوالے سے کچھ افواہوں کی بھی تردید کی، انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے عمل کو آغاز میں چند رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم اس حوالے سے انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی انتظامیہ کو ان کے مطالبے کے مطابق ’ڈیجیٹل مردم شماری مانیٹرنگ ڈیش بورڈز‘ تک رسائی دی گئی ہے۔انہوں نے تازہ مردم شماری کے تحت اب تک جمع ہونے والے ڈیٹا کی تفصٰلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے پاس تقریباً 97 لاکھ خاندان درج ہیں، 61 لاکھ سے زیادہ گھرانوں کی گنتی کی جا چکی ہے اور باقی کے لیے کارروائی جاری ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ’اب تک ہم سندھ میں 3 کروڑ 14 لاکھ افراد کو شمار کرچکے ہیں اور اس بار مردم شماری کے دوران ہم نے صرف لوگوں کی گنتی یا ڈیٹا اکٹھا نہیں کیا جو ہم گزشتہ مردم شماری کے دوران کرتے تھے بلکہ ہم نے ہر وہ چیز بھی شمار کی ہے جو سماجی امور اور اقتصادیات سے متعلق ہے‘۔ڈاکٹر نعیم ظفر کی جانب سے پیش کیے گئ اعدادوشمار کے مطابق سندھ میں اب تک 3 کروڑ 14 لاکھ افراد شمار کیے گئے ہیں، جن میں سے ایک کروڑ 64 لاکھ مرد، ایک کروڑ 50 لاکھ خواتین اور ایک ہزار 496 خواجہ سرا ہیں۔کراچی کی اب تک شمار کی گئی آبادی کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اب تک کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 85 لاکھ لوگ کراچی میں رہتے ہیں۔ڈیجیٹل مردم شماری کے بارے میں حکومت سندھ کے تحفظات اور وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے ان تحفظات کو دور کرنے کی یقین دہانیوں کے بارے میں سوال کے جواب میں ڈاکٹر نعیم ظفر نے کہا کہ وفاقی حکومت نے تمام صوبائی انتظامیہ کو مردم شماری کی نگرانی کے ڈیش بورڈز تک رسائی کی اجازت دی ہے۔اس سلسلے میں انہوں نے مردم شماری کے آغاز سے زیرگردش غلط فہمیوں کی وضاحت کی اور حیرت کا اظہار کیا کہ پہلے دن سے تمام اسٹیک ہولڈرز کو سب کچھ واضح کرنے کے باوجود یہ افواہیں کیوں پھیلائی جارہی ہیں۔ڈاکٹر نعیم ظفر نے کہا کہ ’ہر کوئی یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلے کہ ہر شہری کو اس علاقے یا شہر میں شمار کیا جائے گا جہاں وہ رہتا ہے اور جس کے وسائل وہ استعمال کرتا ہے، اس چیز سے قطع نظر کہ اس کا شناختی کارڈ کس جگہ کا ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ’یہ بات پہلے دن سے ہی واضح تھی، آپ کا شناختی کارڈ یقیناً آپ کے ووٹ یا دیگر چیزوں کا تعین کرتا ہے لیکن جب مردم شماری کی بات آتی ہے تو آپ کو وہاں شمار کیا جائے گا جہاں آپ رہتے ہیں اور جس جگہ کے وسائل استعمال کرتے ہیں‘۔انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ سندھ میں سیلاب زدگان کی نقل مکانی کسی بھی ضلع کی آبادی کی اصل تعداد کو متاثر نہیں کرے گی کیونکہ مرمد شماری کے لیے وضع کردہ طریقہ کار ایسے آفت زدہ طبقات کو شمار کرنے کے لیے خاص طور پر مرتب کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں