اہم خبریں

کیا قوم مانے گی عمران خان دہشتگرد ہے،چیئرمین پی ٹی آئی

لاہور(نیوزڈیسک)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ جلسہ فیل کرنے کیلئے خوف و ہراس پھیلایا گیا، ہمارے 2 ہزار کارکنوں کو اٹھالیا گیا، کیا قوم مانے گی عمران خان دہشتگرد ہے، جلسہ گاہ کی اسٹیج پر بنائے بلٹ پروف کیبن سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ آج میں بتائوں گا کہ کس طرح ملک کو اس دلدل سے نکالنا ہے، ایک سازش کے تحت ہماری حکومت گرائی گئی، سازش کے تحت ہمارے ملک پر جرائم پیشہ کو مسلط کیا گیا۔عمران خان نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر پنجاب میں 30 اپریل کو الیکشن کا اعلان ہوا، 8 مارچ کو ہم نے انتخابی ریلی نکالنے کا اعلان کیا تو ہمارے لوگوں پرشیلنگ کی گئی، ہرقسم کی رکاوٹ کے باوجود عوام اتنی بڑی تعداد میں مینار پاکستان آئے، جو آج طاقت میں ہیں ان کو ایک پیغام جانا چاہیے لوگوں کا جنون کنٹینرز نہیں روک سکتے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم نے ہمارے دور میں 3 مارچ کیے کوئی ایف آئی آر نہیں ہوئی، 25 مئی کو ہم نے مارچ کیا تو گھروں میں گھس کر لوگوں کو اٹھا کر لے گئے، میرے خلاف کیسز کی سینچری ہو چکی ہے، اب ڈیڑھ سو پر جا رہا ہوں، میرے اوپر دہشتگردی کے 40 کیسز ہیں، لیول پیلنگ فیلڈ کا مطلب یہ نہیں کہ عمران خان کے ہاتھ باندھ دو۔اپنے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں لیکن قانون نہیں ہے، جس ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں اس کی قمست میں تباہی ہے، ایک قوم میں اصل آزادی تب ملتی ہے جب انصاف ہوتا ہے، قانون کی حکمرانی سے ہمیں جو آزادی ملنی چاہیے تھی وہ نہیں ملی۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ڈیموکریٹس نے بھی قانون کو نہیں چلنے دیا، جب قانون کی حکمرانی نہیں آئی تو یہاں جنگل کا قانون رہا ہے، جس ملک میں طاقتور کمزور پر ظلم کر سکے ان کو بنانا ریپبلک کہتے ہیں، حقیقی آزادی تب آئے گی جب قانون کی بالادستی ہوگی۔پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ باہر کے لوگوں کو ظلم کے سامنے کھڑے ہوتے دیکھا ہے، باہر کے لوگوں کو امر بالمعروف پر چلتے دیکھا ہے۔ر ہم نے سمندر پار مقیم پاکستانیوں کا اعتماد بحال کیا تو پھر ملک میں سرمایہ کاری شروع ہوجائے گی پھر ہمیں معمولی قرض کیلیے آئی ایم ایف کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکنے پڑیں گے، چین میں بھی اسی طرح ہوا اور پھر آج چین ایک بڑی معاشی طاقت بن کر سامنے آگیا، ہمارے یہاں اوورسیز پاکستانی پلاٹ خریدے تو قبضہ ہوجاتا ہے پھر وہ کیوں یہاں سرمایہ کاری کرے گا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت آنے کے بعد ہمیں ساڑھے تین سال تک تو چیزیں سمجھ ہی نہیں آئیں تھیں، ہم دوبارہ اقتدار میں آکر ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے اقدامات کریں گے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں توجہ دیں گے، ہماری حکومت میں ان دونوں شعبوں کی آمدن بہت زیادہ بڑھ گئی تھی، پھر ہمیں سیاحت کو بھی فروغ دینا ہے اور ہمیں معدنیات پر بھی توجہ دینی ہوگی۔اُن کا کہنا تھا کہ جب ہم اقتدار میں آئیں گے تو ان ساری چیزوں کے ساتھ صنعتوں اور بالخصوص اسمال انڈسٹریز پر بھی توجہ دیں گے اور زراعت کے شعبے میں صرف پیداوار بڑھانی ہے جس کے لیے ہم چین سے بات بھی کرچکے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ ہمیں نقصان والے اداروں کو پرائیوٹائز کرنا ہے جبکہ ٹیکس کلیکشن کو بھی بڑھانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صرف بائیس لاکھ شہری ٹیکس ادا کرتے ہیں جبکہ نادرا ریکارڈ میں کروڑوں لوگ تھے جو ٹیکس میں پورا اتر رہے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہم اقتدار میں آکر منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلیے بھی خصوصی کام کریں گے کیونکہ ایلیٹ کلاس پیسہ چوری کر کے باہر بھیجتی ہے، ہم قانون کو مضبوط بنا کر ایسے لوگوں کیخلاف گھیرا تنگ کریں گے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ قوم کی سماجی حفاظت کیلیے ہم صحت کارڈ بھی جاری کریں گے جبکہ مستقبل میں ہم لوگوں کو ٹارگٹڈ سبسڈی کے تحت راشن کیلیے پیسے بھی دیں گے، اس پر ثانیہ نشتر نے کام مکمل کرلیا ہے۔ ہم اقتدار میں آکر نوجوانوں کو بنا سود قرض دیں گے جبکہ تنخواہ دار طبقے کو گھر دینے کیلیے ہم اپنی اسکیم کو دوبارہ شروع کریں گے۔عمران خان نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے حالیہ انٹرویو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہٹانے کی وجہ بتائی کہ عمران خان خطرناک ہوگیا تھا، آج کی صورت حال ہے وہ کتنی خطرناک ہے کیا جنرل باجوہ اس کا جواب دیں گے؟۔

متعلقہ خبریں