اہم خبریں

ازخود نوٹس، نو رکنی لارجربینچ میں سے دو ججز نے اعتراضات اٹھا دیئے

اسلام آباد (اے بی این نیوز  )سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس، نو رکنی لارجربینچ میں سے دو ججز نے اعتراضات اٹھا دیے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحفظات اٹھائے کہ ایک جج سے متعلق کچھ آڈیو سامنے آئی ہیں موجودہ حالات میں یہ کیس بنیادی حقوق کا نہیں ہے. جسٹس اطہر من اللہ نے کہا پہلا سوال یہ ہوگاکہ اسمبلی آئین کے تحت تحلیل ہوئی یا نہیں. چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ آٸین کی خلاف وزری کسی صورت برداشت نہیں کرے گی،‏انتہائی سنگین حالات ہوں توانتخابات کا مزید وقت بڑھ سکتا ہے عدالت نے حکمراں اتحاد، اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹس جنرلز، الیکشن کمیشن، چیف سیکرٹریز کو کل کیلئے نوٹس جاری کردیئے. چیف جسٹس کی سربراہی میں 9رکنی لارجربینچ نے ازخود نوٹس کی سماعت کی ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے 3 معاملات کوسنناہے سیکشن 57 کےتحت صدر مملکت نے نو اپریل کو پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کیلٸے انتخابات کا اعلان کیا دیکھناہے اسمبلیوں کی تحلیل کےبعد الیکشن تاریخ دینےکا اختیارکس کاہے. جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ازخود نوٹس پرتحفظات ہیں، ہمارے سامنے دو اسمبلیوں کےاسپیکر درخواست دے چکے ہیں جبکہ ازخود نوٹس جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہرعلی اکبرنقوی کے نوٹ پرلیا گیا.اس کیس میں چیف الیکشن کمشنرکوبھی بلایا گیاہے جوکہ فریق ہی نہیں تھے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہاکہ ان حالات میں رائے ہے یہ کیس 184(3) کانہیں بنتا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ازخود نوٹس بعد میں لیا پہلےاسپیکرزکی درخواستیں دائر ہوئیں، انتحابات کا ایشووضاحت طلب ہے، وقت کم ہے لمبی سماعت نہیں کرسکتے تجویز ہےکل بھی اس کیس کی سماعت کریں. اٹارنی جنرل نے مہلت کی استدعا کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کونوٹس جاری کرنے کا مطالبہ رکھا. چیف جسٹس نے کہاکہ ہم صرف چند ضروری باتوں تک محدود رہیں گے ہائیکورٹ میں معاملہ زیرالتواتھا مگر کوئی فیصلہ نہیں ہوپارہا تھا. ‏آرٹیکل 224 کہتا ہے 90 روزمیں انتخابات ہونگے. جسٹس منیب اختر نے تمام سیاسی جماعتوں کو سننے کے ریمارکس دیے یہاں ایشوہے کہ اسمبلی کی تحلیل اورعام انتخابات کیسے ہونگے. جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا ہم اس کیس میں آئینی شق پربات کررہے ہیں اہم ایشوہے جس کا مقصد ٹرانسپرنسی اورعدالتوں پراعتماد کی بات ہے. بنچ نے ریمارکس دیے کہ کچھ سوالات الیکشن کمیشن ایکٹ 27 اور28 سے متعلق اٹھائے گئے. عدالت نے جسٹس اطہرمن اللہ کے اٹھائے گئے سوال کوپہلے سوالات میں شامل کرنے کی ہدایت کردی ، عدالت نے آرڈر میں کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو گورنر کی مشاورت سے تاریخ دینے کا کہا۔ اسمبلیاں تحلیل ہونے کے چھ ہفتے بعد بھی انتحابات کی تاریخ کا معاملہ عدالتوں میں زیر التواء ہے. آئین نوے دنوں میں الیکشن کا کہتا ہے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل، ایڈوکیٹ جرنلز، پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین، حکومت میں شامل تمام جماعتوں، الیکشن کمیشن، صوبائی چیف سیکرٹریز کونوٹس جاری کرتے ہوئے پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا میں آنیوالی خبروں کو نوٹس تصور کیا جائے، عدالت نے سماعت کل تک کیلئے ملتوی کر دی۔

متعلقہ خبریں