کراچی ( مسرور کھوڑو) محکمہ تعلیم سندھ کے ادارے ریفارم سپورٹ یونٹ میں ریٹائرڈ افسران کی ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ کنٹریکٹ پر تعیناتیوں کا انکشاف ہوا ہے، جس کے باعث میرٹ اور شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض افسران کو ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد ریفارم سپورٹ یونٹ میں کنٹریکٹ پر دوبارہ تعینات کیا گیا، جس سے نوجوان اور اہل امیدواروں کے لیے ملازمت کے مواقع محدود ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 31 دسمبر 2023 کو ریٹائر ہونے والے گریڈ 18 کے افسر محمد ایوب لاشاری کو بھی ریفارم سپورٹ یونٹ میں کنٹریکٹ پر تعینات کیا گیا ہے۔
اسی طرح گریڈ 18 کے افسر عبدالوحید بھی ریٹائرمنٹ کے بعد عہدے پر موجود ہیں، جبکہ گریڈ 16 کے ریٹائرڈ افسر سرفراز شاہ کو بھی ریفارم سپورٹ یونٹ میں دوبارہ کنٹریکٹ پر تعینات کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔



ذرائع کے مطابق 3 جولائی 2026 کو ریٹائر ہونے والے گریڈ 17 کے افسر حامد محمود کو بھی ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ تعینات کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ریٹائرڈ افسران کی دوبارہ تعیناتیوں سے محکمہ تعلیم میں میرٹ اور شفافیت کے حوالے سے سوالات پیدا ہوگئے ہیں، جبکہ اہل اور نوجوان امیدواروں کے مواقع محدود ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔
اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے ریفارم سپورٹ یونٹ کے چیف پروگرام افسر جنید حمید سموں سے رابطہ کیا گیا، تاہم انہوں نے مؤقف دینے سے گریز کیا۔


مزید پڑھیں:وزیراعظم کا بڑا اقدام، پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت دینے کا اعلان















