اسلام آباد (اے بی این نیوز) ٹیلی کام آپریٹر زونگ کے اسلام آباد ہیڈ آفس میں تقریباً 150 ملازمین کو مبینہ طور پر نوکری سے فارغ کیے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ ملازمین کے مطابق انہیں اچانک بتایا گیا کہ کمپنی کو اب ان کی خدمات کی ضرورت نہیں، جبکہ مبینہ طور پر کسی معاوضے یا علیحدگی پیکیج کی پیشکش نہیں کی گئی۔
متاثرہ عملے کا کہنا ہے کہ برطرفیاں اچانک کی گئیں اور ملازمین کو متبادل روزگار تلاش کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ ایک متاثرہ ملازم نے دعویٰ کیا کہ اس نے زونگ میں تقریباً 14 سال خدمات انجام دیں، تاہم ملازمت کے اختتام کا طریقہ کار اس کے لیے انتہائی مایوس کن رہا۔
زونگ، چائنا موبائل کی ذیلی کمپنی CMPak کے طور پر پاکستان میں خدمات فراہم کرتا ہے اور ملک بھر میں لاکھوں صارفین کا نیٹ ورک رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ٹیلی کام انڈسٹری اس وقت تنظیم نو کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ یوفون اور ٹیلی نار کے انضمام کے نتیجے میں بھی متعدد ملازمتوں میں کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ملازمین کا کہنا ہے کہ دیگر اداروں میں رضاکارانہ علیحدگی اور گولڈن ہینڈ شیک جیسے پیکیجز زیرِ غور رہے ہیں، جبکہ زونگ کے مبینہ طور پر فارغ کیے گئے ملازمین کو ایسی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔
قانونی ماہرین کے مطابق ملازمت کے معاہدے اور سروس کی نوعیت کے تحت برطرف ملازمین کو نوٹس، واجبات یا دیگر قانونی حقوق حاصل ہو سکتے ہیں، تاہم اس کا انحصار ہر ملازم کی ملازمت کی شرائط پر ہوگا۔
واضح رہے کہ تقریباً 150 ملازمین کی برطرفی کا دعویٰ فی الحال غیر مصدقہ ہے۔ کمپنی کی جانب سے باضابطہ تصدیق یا مؤقف سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔
مزیدپڑھیں: پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اب تک کتنا اضافہ ہوا؟















