اسلام آباد (اے بی این نیوز) زرعی ترقیاتی بینک میں بڑے پیمانے پر مبینہ مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جہاں انٹرنل آڈٹ رپورٹ میں درجنوں سنگین اعتراضات سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق انٹرنل آڈٹ رپورٹ میں متعدد مبینہ غیر قانونی تقرریوں، تنخواہوں، الاؤنسز اور مالی مراعات میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ بورڈ کے فیصلوں کی مبینہ غلط تشریح اور ان پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف انٹرنل آڈیٹر وقاص احمد پر مبینہ طور پر آڈٹ اعتراضات واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، تاہم انہوں نے اعتراضات واپس لینے سے انکار کرتے ہوئے حتمی رپورٹ جاری کردی۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ جاری ہونے کے بعد وقاص احمد کو چیف انٹرنل آڈیٹر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، جبکہ صفدر زیدی کو نیا انٹرنل آڈیٹر مقرر کرکے آڈٹ اعتراضات نمٹانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ اسد علی چوہدری کو ڈویژنل ہیڈ جبکہ صفدر زیدی کو گروپ ہیڈ مقرر کیا گیا۔ مبینہ طور پر آڈٹ اعتراضات نمٹانے کے عوض اسد علی چوہدری کو ای وی پی بنانے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔
ذرائع کے مطابق مئی 2026 میں آڈٹ اعتراضات کو مبینہ طور پر ’’بے کار‘‘ قرار دے کر انہیں نمٹانے کی ہدایت کی گئی، تاہم آڈٹ عملے نے اعتراضات ختم کرنے سے قبل دستاویزی ثبوت اور تحریری وضاحت طلب کی۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض آڈٹ اعتراضات ریکوری یا تحریری وضاحت کے بغیر ہی نمٹائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
دوسری جانب انٹرنل آڈٹ کے دو سینئر افسران مبشر جمیل اور سہیل صابری نے بھی بینک سے استعفے دے دیے ہیں۔















