اسلام آباد (اے بی این نیوز) بیرون ملک تعیناتی کے دوران دوہری شہریت حاصل کرنے یا اسے چھپانے والے سرکاری افسران کے خلاف وفاقی حکومت نے قوانین مزید سخت کردیے ہیں۔ غیر ملکی شہریت نہ چھوڑنے یا اسے حکام سے چھپانے کی صورت میں ملازمت سے برطرفی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اگر کوئی سرکاری ملازم غیر ملکی شہریت یا مستقل رہائشی کارڈ رکھتا ہے اور مقررہ مدت میں اسے ترک نہیں کرتا، یا متعلقہ محکمے سے یہ معلومات چھپاتا ہے، تو اس کے خلاف ملازمت سے برطرفی سمیت کارروائی کی جائے گی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی ہدایت پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے گریڈ 17 سے 22 تک کے تمام اعلیٰ سرکاری افسران کا ڈیٹا اور ریکارڈ مرتب کرنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں، تاکہ دوہری شہریت رکھنے والے افسران کی نشاندہی کی جاسکے۔
دوسری جانب بیوروکریسی میں دوہری شہریت رکھنے پر پابندی عائد کرنے کے لیے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں ایک بل بھی جمع کرایا گیا ہے۔ مجوزہ قانون کا مقصد اہم سرکاری عہدوں پر تعینات افراد کی وفاداری کو پاکستان سے مشروط کرنا ہے۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی مختلف رپورٹس میں ایسے متعدد اعلیٰ سرکاری افسران کے نام بھی سامنے آچکے ہیں جو کینیڈا، برطانیہ اور دیگر ممالک کی شہریت یا مستقل رہائش کے اجازت نامے رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں:ہونڈا سی جی 125 کا نیا ماڈل لانچ، خصوصیات اور قیمت سامنے آگئیں















