اہم خبریں

مصطفیٰ کمال کے سامنے احتجاج، سانحے کے ذمہ داروں پر قتل کا مقدمہ بنانے کا مطالبہ

مصطفیٰ کمال کے سامنے احتجاج، سانحے کے ذمہ داروں پر قتل کا مقدمہ بنانے کا مطالبہ

اسلام آباد (اے بی این نیوز) پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 بچوں کے جھلس کر جاں بحق ہونے کے سانحے پر شہری نے وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس کے دوران احتجاج کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کردیا۔

وزیر صحت مصطفیٰ کمال پمز میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے کہ اس دوران ایک بزرگ شہری نے کھڑے ہوکر احتجاج شروع کردیا۔ شہری نے بلند آواز میں وزیر صحت سے مطالبہ کیا کہ 14 بچوں کے جھلس کر جاں بحق ہونے کے واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔

اس موقع پر مریضوں کے لواحقین کی جانب سے بھی غم و غصے کا اظہار کیا گیا، جبکہ بعض افراد احتجاج کرنے والوں کو خاموش کرانے کی کوشش کرتے رہے۔

پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں نے بھی وزیر صحت سے واقعے اور انتظامی معاملات سے متعلق سخت سوالات کیے۔

صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وہ خود کو احتساب کے لیے پیش کرتے ہیں اور کسی بھی ذمہ دار کو کیفر کردار تک پہنچائے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔

وزیر صحت نے کہا کہ وہ سیکرٹری صحت اور دیگر افسران کو عہدوں سے ہٹانے کا اختیار نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق سیکرٹری صحت سمیت دیگر افسران کی تعیناتی اور تبدیلی وزیراعظم کی صوابدید ہے۔

مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ سانحے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور کسی ذمہ دار کو کیفر کردار تک پہنچائے بغیر نہیں چھوڑیں گے۔
مزید پڑھیں‌:پمز ہسپتال سانحہ، وفاقی وزیر صحت نے خود کو احتساب کے لیے پیش کردیا

متعلقہ خبریں