اہم خبریں

چینی کی فوری برآمد کی اجازت دی جائے، شوگر ملز مالکان کا حکومت کو تیسرا خط

چینی کی فوری برآمد کی اجازت دی جائے، شوگر ملز مالکان کا حکومت کو تیسرا خط

اسلام آباد(رضوان عباسی )شوگر ملز مالکان نے سرپلس چینی کی برآمد کی اجازت کے لیے حکومت کو تیسرا خط لکھ دیا۔ شوگر انڈسٹری کی جانب سے وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کو ارسال کیے گئے خط میں فوری طور پر 6 لاکھ 33 ہزار میٹرک ٹن سرپلس چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ باقی فالتو چینی کے ذخیرے کو بھی اگلے کرشنگ سیزن کے آغاز کے ایک ماہ کے اندر برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، تاکہ ملکی مارکیٹ میں اضافی اسٹاک کے باعث پیدا ہونے والے مسائل سے بچا جا سکے۔شوگر ملز مالکان کے مطابق 31 جولائی 2026 تک ملک میں 31 لاکھ میٹرک ٹن چینی کا اسٹاک موجود ہے، جبکہ ملک میں چینی کی ماہانہ اوسط کھپت تقریباً 5 لاکھ 64 ہزار 196 میٹرک ٹن ہے۔

خط میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگلے کرشنگ سیزن کے آغاز پر ملک میں تقریباً 11 لاکھ 97 ہزار ٹن فالتو چینی کا بڑا ذخیرہ موجود ہوگا۔ شوگر انڈسٹری کا کہنا ہے کہ آئندہ کرشنگ سیزن میں گنے کی ایک بار پھر بمپر فصل متوقع ہے، جس کے نتیجے میں ملکی ضرورت سے زائد چینی کی پیداوار کا امکان ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق شوگر انڈسٹری کو چینی کے بڑے ذخائر رکھنے کے چیلنج کا سامنا ہے، جبکہ فروخت نہ ہونے والے اسٹاک کے باعث شوگر ملز کو شدید مالی مشکلات اور فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔شوگر ملز مالکان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرپلس چینی کی فوری برآمد کی اجازت دی جائے اور باقی اضافی اسٹاک کو بھی مقررہ مدت کے اندر برآمد کرنے کی منظوری دی جائے، تاکہ صنعت کو درپیش مالی دباؤ کم کیا جا سکے اور آئندہ کرشنگ سیزن سے قبل اضافی ذخائر کا مسئلہ حل کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں‌:سونا مسلسل مزید مہنگا، آج کی تازہ ترین قیمتیں

متعلقہ خبریں