اسلام آباد (اے بی این نیوز) مسلم لیگ کے رہنما سینیٹر بہرومند تنگی نے کہا ہے کہ پاکستان نے 47 سال بعد دشمنوں کو ایک میز پر بٹھا کر امن کی راہ ہموار کی، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں گرین پاسپورٹ کی عزت اور وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا گرین پاسپورٹ اب عالمی سطح پر احترام کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور قومی معاملات میں پاکستان کا کردار بھی عالمی سطح پر اہمیت اختیار کر رہا ہے۔
اے بی این نیوز کے پروگرام ڈیبیٹ @8میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر بہرومند تنگی نے کہا کہ بلیو پاسپورٹ سے متعلق معاملات قائمہ کمیٹی میں زیر غور ہیں، جبکہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو بلیو پاسپورٹ دینے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ سے متعلق تمام فیصلے قانون اور قواعد و ضوابط کے مطابق کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی پاسپورٹ کے وقار میں اضافہ ملک کی مثبت شناخت کا اظہار ہے۔ ان کے مطابق پارلیمنٹیرینز کو بلیو پاسپورٹ دینا احساسِ محرومی کا باعث نہیں، کیونکہ 25 کروڑ عوام میں پارلیمنٹ کے ارکان کی تعداد انتہائی محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اپنے اعتماد سے نمائندوں کو پارلیمان تک پہنچاتے ہیں اور ان کی ذمہ داریاں بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔
سینیٹر بہرومند تنگی نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں پارلیمنٹیرینز کو خصوصی سفری سہولیات حاصل ہوتی ہیں، اس لیے بلیو پاسپورٹ کے معاملے کو احساسِ محرومی سے جوڑنا درست نہیں۔ ان کے مطابق اصل احساسِ محرومی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب عوام کے بنیادی مسائل حل نہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی اولین ذمہ داری عوام کو صحت، تعلیم اور تحفظ کی سہولتیں فراہم کرنا ہے، جبکہ دہشت گردی، غربت اور کرپشن جیسے مسائل کے حل پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مراعات پر توجہ دینا احساسِ محرومی میں اضافہ کرتا ہے، اس لیے بلیو پاسپورٹ نہیں بلکہ عوامی مسائل کا حل اصل ترجیح ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کی قانون سازی کا بنیادی مقصد عوامی مشکلات میں کمی لانا ہونا چاہیے۔ پارلیمنٹ عوامی نمائندوں کا فورم ہے، جہاں قانون سازی عوامی مفاد اور عوامی مسائل کو مدنظر رکھ کر کی جانی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ بلیو پاسپورٹ کے معاملے میں بھی عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے۔
سینیٹر بہرومند تنگی نے کہا کہ آئین کے مطابق سینیٹر ریٹائرمنٹ کے بعد بھی سینیٹر ہی کہلاتا ہے، جبکہ سابق وزیر کو ایکس وزیر کہا جا سکتا ہے، مگر سینیٹر کی آئینی حیثیت برقرار رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹیرینز کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر حال میں عوام کے حقوق اور مسائل کو ترجیح دیں۔
مزید پڑھیں:بلیو پاسپورٹ پر سینیٹر شہادت اعوان کی اہم وضاحت سامنے آگئی















