اہم خبریں

بڑی خبر،بلیو پاسپورٹ قانون سازی پر ہمایوں مہمند کے اہم انکشافات

بڑی خبر،بلیو پاسپورٹ قانون سازی پر ہمایوں مہمند کے اہم انکشافات

اسلام آباد (اے بی این نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا ہے کہ بل کی منظوری میں پیپلز پارٹی کی مشاورت اور مکمل تعاون شامل تھا، جبکہ متعلقہ قانون سازی پر گورنر کے دستخط کے بعد اب انتظامی امور میں تبدیلی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ اور انتظامی ترامیم کا مقصد ادارے کے اندرونی نظام کو مزید بہتر بنانا ہے اور ایوان سے منظور شدہ حالیہ بل مختلف سیاسی جماعتوں کے اشتراک کا واضح نتیجہ ہے۔

اے بی این نیوز کے پروگرام ڈیبیٹ @8 میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ بلیو پاسپورٹ سے متعلق قانون سازی میں مختلف جماعتوں کے ارکان شامل رہے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے بھی اس معاملے پر حمایت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تنقید کرنے والوں کو ماضی کے مؤقف اور کردار کو بھی دیکھنا چاہیے، کیونکہ اس بل کی حمایت میں مختلف سیاسی جماعتوں کے سینیٹرز شامل تھے اور قانون سازی کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ہی معاملے پر مختلف ادوار میں مختلف مؤقف اختیار کیے گئے۔ اگر بلیو پاسپورٹ کی سہولت بیوروکریٹس کو دی جاتی ہے تو پارلیمنٹیرینز کے حوالے سے بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ نیشنل ہائی وے سمیت دیگر سرکاری اداروں سے متعلق سہولیات کے لیے واضح معیار ہونا چاہیے۔ اگر گریڈ 21 اور 22 کے افسران کو یہ سہولت حاصل ہے تو منتخب نمائندوں کے کردار کو بھی دیکھا جائے، کیونکہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان عوام کے منتخب نمائندے ہیں، اس لیے سہولیات کے معاملات میں یکساں پالیسی اور واضح اصول ہونے چاہئیں۔

سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ ریاست کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے افراد اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، تاہم قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان کے مقابلے میں بیوروکریٹس کو غیر معمولی مراعات دینا ناانصافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں طاقتور طبقات کا قبضہ ہے اور بدقسمتی سے ہم سب اس نظام کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ہائی ویز کے منصوبوں اور عوامی فلاحی کاموں کے حوالے سے حکومتی پالیسی میں ابہام ہے، جبکہ اشرافیہ کی جانب سے وسائل پر قبضے کے باعث ملک کے غریب طبقے کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سے گزارش کی کہ وہ عوامی مفاد میں موجودہ پالیسیوں پر فوری نظرثانی کریں۔

پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ غلطیوں کی نشاندہی پر ہٹ دھرمی کے بجائے اصلاح کا راستہ اختیار کرنا ہی بہترین عمل ہے۔ قیادت کو معاملات سلجھانے کے لیے ڈٹائی کے بجائے لچک دکھانی چاہیے، جبکہ نظام کی بہتری کے لیے اپنی خامیوں کو تسلیم کرنا اور انہیں دور کرنا ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی عہدیداروں کو تنقید برداشت کرتے ہوئے اپنے طرزِ عمل میں مثبت تبدیلی لانی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ عوامی ٹیکسوں کا پیسہ قیمتی اثاثہ ہے جسے غیر ضروری اخراجات پر ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ بعض سرکاری امور کے آپریشنل اخراجات ضرور ہوتے ہیں، تاہم سرکاری جہازوں کی تیاری اور دیکھ بھال کا بوجھ بالآخر عوامی ٹیکسوں پر پڑتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی وسائل کے درست استعمال اور ٹیکس دہندگان کے پیسوں کی حفاظت یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں‌:وفاقی وزیر کی پیٹرولیم مصنوعات کے بارے میں بڑی اپڈیٹ

متعلقہ خبریں