گو پٹرولیم ٹیکس چوری کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے کمپنی کے خلاف اربوں روپے کے کسٹمز ڈیوٹی، ٹیکسز اور پیٹرولیم لیوی کی مبینہ چوری پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق مقدمہ مبینہ طور پر بانڈڈ پیٹرولیم مصنوعات کی غیرقانونی فروخت سے متعلق ہے، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچا۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بعض پیٹرولیم مصنوعات مارکیٹ میں فروخت کی گئیں، جس سے سرکاری محصولات متاثر ہوئیں۔
ذرائع کے مطابق درج ایف آئی آر میں کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سمیت کئی اعلیٰ عہدیداروں کو نامزد کیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ مبینہ طور پر سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل اور جعلی دستاویزات کے استعمال کے ذریعے اس عمل کو ممکن بنایا گیا۔
گو پٹرولیم ٹیکس چوری کیس مختلف قانونی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے جن میں کسٹمز ایکٹ، پاکستان پینل کوڈ اور انسدادِ بدعنوانی سے متعلق قوانین شامل ہیں۔ ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے تاکہ مالی بے ضابطگیوں کی مکمل نوعیت اور حجم کا تعین کیا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور اس معاملے میں سرکاری و نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے مزید افراد بھی تفتیش کی زد میں آ سکتے ہیں۔ ادارہ قومی خزانے کو پہنچنے والے مجموعی نقصان کا تخمینہ لگانے اور تمام ذمہ دار عناصر کی نشاندہی کے لیے شواہد اکٹھے کر رہا ہے۔















