ایرانی ریال کی قدر میں حالیہ دنوں کے دوران نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جس کے بعد مالیاتی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی ایک بار پھر بڑھنے لگی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت اور خطے میں کشیدگی میں کمی کی اطلاعات نے کرنسی مارکیٹ پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ایران کو اقتصادی پابندیوں، سیاسی غیر یقینی صورتحال اور عالمی دباؤ کا سامنا رہا، جس کے باعث ایرانی کرنسی شدید متاثر ہوئی۔ تاہم حالیہ مثبت اشاروں نے سرمایہ کاروں میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق ماضی میں بھی جب ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کی گئی تو ریال کی قدر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں بعض سرمایہ کار ایرانی کرنسی کو ایک ممکنہ سرمایہ کاری کے موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ علاقائی تناؤ کے دوران ریال کی قیمت میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی، لیکن معاہدے سے متعلق مثبت خبروں کے بعد مارکیٹ میں بہتری کا رجحان دوبارہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اگر سیاسی استحکام برقرار رہا اور پابندیوں میں مزید نرمی ہوئی تو ایرانی ریال کی قدر میں مزید اضافہ متوقع ہو سکتا ہے۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری مکمل طور پر خطرات سے خالی نہیں۔ اگر سفارتی مذاکرات کامیاب نہ ہوئے یا خطے میں دوبارہ کشیدگی پیدا ہوئی تو کرنسی کی قدر پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے سرمایہ کاروں کو محتاط حکمت عملی اپنانے اور محدود پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کی معاشی بحالی پاکستان کے لیے بھی مثبت ثابت ہو سکتی ہے۔ توانائی کے شعبے میں تعاون، دوطرفہ تجارت میں اضافہ اور مشترکہ اقتصادی منصوبوں کی پیش رفت دونوں ممالک کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔















