اہم خبریں

بلوچستان بجٹ 2026-27پیش کر دیا گیا، جانیے اہم اپڈیٹ

بلوچستان بجٹ 2026-27پیش کر دیا گیا، جانیے اہم اپڈیٹ

کوئٹہ( اے بی این نیوز) بلوچستان کا مالی سال 2026-2027 کے لئے بجٹ پیش کر دیا گیا ہے ۔ بلوچستان اسمبلی کا صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نو شیروانی نے 1089 بلین روپے کا بجٹ پیش کردیا۔

کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی کے خصوصی بجٹ سیشن میں بلوچستان کے وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ مالی سال میں مختص کردہ بجٹ کا 115 فیصد استعمال کیا، رواں مالیاتی سال کے دوران 2966 جاری اور نئی ترقیاتی سکیمیں اس سال کے آخر تک مکمل ہوں گی۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ بلوچستان کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زراعت کے ترقیاتی بجٹ کی مد میں 4 ارب 40 کروڑ اور غیر ترقیاتی اخراجات کے لئے 19 ارب 20 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

کل آمدن: انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے کل اخراجات کا تخمینہ 1089 بلین روپے ہے، رواں مالی سال کی کل آمدن 886 بلین روپے رہی، غیر ترقیاتی بجٹ کا حجم 797 بلین روپے ہے، مجموعی صوبائی ترقیاتی بجٹ کا حجم 206 بلین روپے ہے۔

نئی سکیمیں: وزیرخزانہ بلوچستان کا کہنا تھا کہ نئی سکیموں کے لئے 106 جبکہ جاری سکیموں کے لیے 100 بلین روپے رکھے گئے ہیں، فیڈرل ڈویلپمنٹ گرانٹس کی مد میں 45 بلین روپے اور فارن پروجیکٹس اسسٹنس کی مد میں 40 بلین روپے رکھے گئے ہیں۔

میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ ہمارے صوبے کا بجٹ سرپلس میں ہے، صوبائی آمدنی میں بھی بہتری لائی جارہی ہے، صوبائی آمدنی کو 170 بلین روپے تک پہنچایا جائے گا، وفاق کے تعاون سے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ڈیمز کی تعمیر جاری ہے۔

وزیر خزانہ نے بجٹ تجاویز کی تفصیل کپیش کرتے ہوئے اسمبلی کو بتایا کہ محکمہ انتظام اجناس کے ترقیاتی اخراجات کے لیے 90 لاکھ جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کیلئے 5 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ے۔

محکمہ بلدیات کا ترقیاتی بجٹ 85 لاکھ جبکہ غیر ترقیاتی بجٹ 41 ارب 40 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔
محکمہ مواصلات و تعمیرات کا ترقیاتی بجٹ 27 ارب جبکہ غیر ترقیاتی بجٹ 20 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔
محکہ ٹرانسپورٹ کا ترقیاتی بجٹ 1 ارب 50 کروڑ روپے جبکہ غیر ترقیاتی بجٹ 1 ارب 29 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔
محکمہ آبپاشی کا ترقیاتی بجٹ 12 ارب 80 کروڑ جبکہ غیر ترقیاتی بجٹ 5 ارب 79 کروڑ روپےہے ۔
آبنوشی کے شعبے کا ترقیاتی بجٹ 7 ارب 60 کروڑ جبکہ غیر ترقیاتی بجٹ 12 ارب 40 کروڑ ہے ۔
محکمہ کان کنی کا ترقیاتی بجٹ 1 ارب 45 کروڑ اور غیرترقیاتی بجٹ 4 ارب 70 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔
محکمہ ماہی گیری و ساحلی ترقی کا ترقیاتی بجٹ 34 کروڑ 60 لاکھ اور غیر ترقیاتی بجٹ 2 ارب 27 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں توانائی شعبے کے لئے ترقیاتی مد میں 5.3 بلین اور غیر ترقیاتی کی مدد میں 4.6 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
آئندہ مالی سال میں محکمہ ماحولیات و ماحولیاتی تبدیلی کے لئے غیر ترقیاتی کی مدد 862 میلن سے بڑھا کر 1 بلین کردیا گیا جبکہ ترقیاتی کی مدد میں 62 ملین مختص کئے گئے ہیں۔
آئندہ مالی سال میں محکمہ لائیو اسٹاک میں ترقیاتی کی مدد میں 1 بلین اور غیر ترقیاتی کی مدد میں 8 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں ۔
آئندہ مالی سال میں محکمہ لیبر اینڈ من پاور کے لئے ترقیاتی مد میں 58 میلن جبکہ غیر ترقیاتی کی مدد میں 5.5 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
آئندہ مالی سال میں محکمہ صنعت و حرفت کے لئے ترقیاتی بجٹ کی مدد میں 4.2 بلین جبکہ غیر ترقیاتی کی مدد میں 4.76 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
آئندہ مالی سال میں محکمہ سماجی بہبود میں ترقیاتی بجٹ کی مدد میں 329 میلن اور غیر ترقیاتی کی مدد 6.39 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں.
آئندہ مالی سال میں محکمہ کھیل وامور نوجوانوں کے لئے ترقیاتی بجٹ کی مدد میں 645 میلن جبکہ غیر ترقیاتی کی مدد میں 2.62 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
آئندہ مالی سال میں محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے لئے ترقیاتی بجٹ کی مدد میں 978 میلن اور غیر ترقیاتی کی مدد میں 3.76 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
آئندہ مالی سال میں محکمہ ثقافت و سیاحت کے لئے ترقیاتی بجٹ کی مدد میں 285 میلن جبکہ غیر ترقیاتی کی مدد میں 1.81 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
آئندہ مالی سال میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و اینٹی نارکوٹکس کے شعبے کے لئے 3.31 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔
آئندہ مالی سال میں صوبے کو این ایف سی کے مدد میں ملنے والے ٹیکسز محصولات کی مدد میں 771 بلین روپے وصول ہوں گے۔
آئندہ مالی سال میں بلوچستان حکومت نے صوبائی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا ہے۔

آئندہ مالی سال کا بجٹ ٹیکس فری بجٹ ہے، نیا ٹیکس نہیں لگایا جارہا۔
پبلک ٹرانسپورٹ پر سیلز ٹیکس معاف کیا گیا ہے۔
نئی الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد ٹیکسز معاف کیا گیا ہے۔
پبلک جائیداد کی بیمہ پر سیل ٹیکس معاف کیا گیا ہے۔

آئندہ مالی سال میں صوبے میں صنعتی ترقی کے لئے ایکسپورٹ پراسیسنگ زون میں بیرونی انویسٹمنٹ پر صوبائی ٹیکسوں کو معاف کیا گیا ہے۔
تعلیمی خدمات پر سیل ٹیکس 0 فیصد کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ کی مائکرو فنانس اسکیم کے تحت 1 بلین بلاسود قرضوں کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے گا۔
آئندہ مالی سال میں عوامی فلاح کے لیے عوام انڈومنٹ فنڈ کے لئے 1.3 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں کئے گئے ہیں۔
آئندہ مالی سال میں بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ فنڈ کے ذریعے طلباء کی معاونت جاری رکھنے کے لیے 2.8 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں کئے گئے ہیں۔
آئندہ مالی سال میں بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے لئے 1.5 بلین کا مزید اضافہ کیا گیا ہے۔
آئندہ مالی سال 2026-27 کے دوران شہید بےنظیر بھٹو اسکالرشپ کے لئے 54 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں کئے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں‌:عوام کو ریلیف ملنے کا امکان، وزیر پیٹرولیم نے خوشخبری سنا دی

متعلقہ خبریں