اسلام آباد(اے بی این نیوز) وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ شادی سے قبل تھیلیسیمیا ٹیسٹ لازمی قرار دینے جا رہے ہیں، پہلی جینیٹک پالیسی ایک ماہ میں آئے گی۔
جینیٹک پالیسی کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان 2030 تک دنیا کی چوتھی بڑی آبادی والا ملک بننے جا رہا ہے، جبکہ معاشی مشکلات کے باعث بڑھتے ہوئے بیماریوں کے بوجھ کو برداشت کرنا کسی بھی ملک کے لیے آسان نہیں، اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ میں سرفہرست ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک کے ہسپتالوں کی صورتحال کسی وبائی کیفیت کا منظر پیش کر رہی ہے، حالانکہ کوئی مخصوص وبا موجود نہیں، صحت کا شعبہ اب قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکا ہے اور موجودہ نظام بیماریوں کے علاج پر مرکوز ہے، جبکہ توجہ بیماریوں کی روک تھام پر ہونی چاہیے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت ہیلتھ کیئر کے جدید ماڈل اور جینیوم پروفائلنگ کی طرف بڑھنا چاہتی ہے تاکہ موروثی اور پیچیدہ بیماریوں کی بروقت تشخیص اور روک تھام ممکن بنائی جا سکے، شادی سے قبل لڑکا اور لڑکی دونوں کا تھیلیسیمیا ٹیسٹ لازمی قرار دینے کی تجویز پر کام جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں سکریننگ سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں، جبکہ جینیاتی اور موروثی بیماریوں کے علاج اور تشخیص پر سالانہ 200 سے 300 ارب روپے تک خرچ ہوتے ہیں، پاکستان کی پہلی جامع جینیٹک پالیسی آئندہ ایک ماہ کے اندر متعارف کرا دی جائے گی۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ اس وقت لاکھوں روپے خرچ کرکے بیرون ملک سے جینیٹک ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں، تاہم نئی پالیسی کے ذریعے ان سہولیات کو ملک کے اندر ہی دستیاب بنانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ عوام کو بہتر اور کم لاگت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
مزید پڑھیں: عمران خان ،شہباز شریف ہتک عزت کیس میں اہم پیشرفت















