اسلام آباد(رضوان عباسی )وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کی مد میں 1126 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دے دی ہے، جس میں انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، آبی وسائل، توانائی اور سماجی شعبوں کے منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے لیے 729 ارب 90 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو مجموعی ترقیاتی پروگرام کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ اس شعبے میں ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن کے منصوبوں کے لیے 408 ارب 90 کروڑ روپے، آبی وسائل کے منصوبوں کے لیے 140 ارب 40 کروڑ روپے جبکہ توانائی کے منصوبوں کے لیے 135 ارب 60 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق سماجی شعبے کے منصوبوں کے لیے 187 ارب روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے۔ تعلیم اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے لیے 78 ارب 50 کروڑ روپے، صحت کے شعبے کے لیے 24 ارب 30 کروڑ روپے جبکہ پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) پروگرام کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
حکومت نے گورننس سیکٹر کے لیے 10 ارب 20 کروڑ روپے اور سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کے لیے 43 ارب 90 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔
کم ترقی یافتہ اور خصوصی اہمیت کے حامل علاقوں کی ترقی کے لیے آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے منصوبوں کے لیے 79 ارب 40 کروڑ روپے جبکہ خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے 66 ارب 10 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت نے آئندہ مالی سال میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، آبی ذخائر کی تعمیر، توانائی کے منصوبوں، تعلیم، صحت اور علاقائی ترقی کو اپنی ترقیاتی حکمت عملی کا مرکزی محور قرار دیا ہے۔















