سپریم کورٹ نے ایمان مزاری Emaan Mazari اور ان کے شوہر کی جانب سے دائر سزا معطلی کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ کو دو ہفتوں کے اندر فیصلہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ایک اہم سماعت کے دوران سامنے آیا جس نے قانونی اور سیاسی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی ہے۔
سماعت جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ دورانِ سماعت درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اپیل دائر ہونے کے باوجود دو ماہ سے زائد وقت گزر چکا ہے لیکن ہائیکورٹ میں اس پر دوبارہ سماعت نہیں ہو سکی اور کسی قسم کا ریلیف بھی فراہم نہیں کیا گیا۔
عدالت نے کیس کی صورتحال پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیلوں پر فوری فیصلہ ضروری ہے تاکہ قانونی پیچیدگیوں کو ختم کیا جا سکے۔ سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ متعلقہ عدالت کو اس معاملے پر جلد فیصلہ کرنا چاہیے تاکہ کیس غیر ضروری طور پر طول نہ پکڑے۔
بڑا عدالتی فیصلہ، پی ٹی آئی کیلئے اچھی خبر،جا نئے تفصیلات
سزا معطلی کی یہ اپیلیں اس مقدمے سے متعلق ہیں جس میں ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو متنازع بیانات اور ٹوئٹس کے کیس میں سزا سنائی گئی تھی، جس کے بعد ان کی جانب سے اعلیٰ عدالت سے رجوع کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جب تک اسلام آباد ہائیکورٹ اس اپیل پر فیصلہ نہیں دیتی، اس وقت تک معاملہ عدالتِ عظمیٰ میں زیر التواء رہے گا۔















