واشنگٹن میں امریکی وزیر دفاع اور پینٹاگونPentagon Budget کے اعلیٰ حکام کو ایوان نمائندگان کی کمیٹی کے سامنے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جہاں دفاعی حکمت عملی اور جنگی اخراجات پر سخت اور تند و تیز سوالات کیے گئے۔ اجلاس کے دوران اراکین نے جنگی پالیسی اور مالی اخراجات کی تفصیلات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
پینٹاگون حکام کے مطابق ایران Iran Conflictکے خلاف جاری فوجی اور دفاعی مشنز پر اب تک مجموعی طور پر تقریباً 29 ارب ڈالر کے اخراجات ہو چکے ہیں۔ ان اخراجات میں صرف آپریشنل سرگرمیاں ہی نہیں بلکہ تباہ شدہ فوجی سازوسامان کی مرمت اور نئی خریداری بھی شامل ہے، جس نے مجموعی بجٹ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ایمان مزاری اوران کے شوہر کے حوالے سے اہم خبر جا نئے کیا
اجلاس میں امریکی وزیر دفاع نے بجٹ سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایران کے خلاف دفاعی اور اسٹریٹجک کارروائیاں مؤثر انداز میں جاری ہیں اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے یہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ تاہم کمیٹی اراکین نے بار بار سوالات اٹھائے کہ اتنے بھاری اخراجات کے باوجود واضح نتائج اور شفافیت کیوں نظر نہیں آ رہی۔
ذرائع کے مطابق بعض اراکین نے پالیسی کے تسلسل اور جنگی حکمت عملی کی افادیت پر بھی سوال اٹھائے، جبکہ دفاعی حکام کی جانب سے دی گئی وضاحتیں اراکین کو مکمل طور پر مطمئن نہ کر سکیں۔















