اسلام آباد ( اے بی این نیوز )معاون خصوصی اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان کی اے بی این نیوز کے پروگرام’’سوال سے آگے‘‘ میں گفتگو کرتے ہو ئے کہا ہے کہ حکومت اپنی نااہلی اور کوتاہیاں چھپانے کے بجائے خود بیان کر رہی ہے۔ موجودہ حکمران اتحاد 4 سالہ دور اقتدار میں کسی ایک شعبے کی کامیابی بتائے۔ حکومتی نمائندوں کو چیلنج ہے کہ وہ معاشی فیکٹ اینڈ فگرز عوام کے سامنے لائیں۔ 17سیٹوں پر قائم حکومت نے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ بانی کے دور اور موجودہ حکومت کی گروتھ کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ نااہل حکمران ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کے بجائے کارکردگی پر توجہ دیں۔
مہنگائی اور ڈالر کی قیمتوں میں اضافے کے باعث حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی۔ حکومت نے کسی ایک شعبے میں بھی تاحال کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کی۔ ملکی بقا کیلئے موجودہ حکومت سے جلد از جلد چھٹکارا پانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ محمود اچکزئی 5 ماہ کے طویل انتظار کے بعد باضابطہ لیڈر آف دی اپوزیشن بنے۔ سہیل آفریدی کی بھرپور مہم اور دباؤ کے نتیجے میں اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری ہوا۔ اپوزیشن لیڈر ایوان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اورپٹرولیم قیمتوں پر آواز اٹھائیں گے۔ ماضی میں10 روپے پٹرول مہنگا ہونے پر ن لیگ کنٹینر پر چڑھ کر مارچ کرتی تھی۔ بلاول بھٹو کے مہنگائی مارچ کا اصل مقصد پی ٹی آئی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنا تھا۔
راولپنڈی میں سکیورٹی ہائی الرٹ، اڈیالہ جیل ریڈ زون قرار، 15 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ
پی ٹی آئی حکومت کا خاتمہ مہنگائی کے باعث نہیں بلکہ اندرونی و بیرونی سازش تھی۔ پی ٹی آئی قیادت اور خیبر پختونخوا حکومت نے احتجاجی تحریک کی تیاریاں مکمل کر لیں۔ قومی اسمبلی میں موجود 78 اراکین کو احتجاجاً ہاؤس کی کارروائی نہیں چلنے دینی چاہیے۔ پارلیمنٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور بڑھتی مہنگائی پر توانا آواز اٹھائی جائے۔
حکومت کو ہماری سٹریٹ پاور پر اعتراض ہے تو جلسے کیلئےاین او سی جاری کرے۔
ثابت ہوچکا کہ عوامی طاقت اپوزیشن کی صفوں میں موجود ہے۔ مینار پاکستان سمیت پنجاب اور سندھ کے کسی بھی شہر میں ہمیں اجتماع کی اجازت دی جائے۔ رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے سیاسی میدان میں مقابلہ کرنے کی ہمت پیدا کرے۔ بانی کی کال پر پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں دھرنے کی تیاری کر لی۔ قیادت نے سٹریٹ موومنٹ مہم کی ذمہ داری سیف اللہ نیازی کو سونپی۔ سیف اللہ نیازی کو فیصلےاچکزئی اور علامہ ناصر سے مشاورت سے کرنے کا حکم دیا گیا۔ حکومت پی ٹی آئی کی مقبولیت سے خوفزدہ ہو کر عوامی مہم کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔
ن لیگ کی سیاست اب صرف 9 مئی اور 26 نومبر تک محدود ہو چکی۔ ن لیگ ووٹ کو عزت دینے کے بجائے مخصوص بیانیے کی آڑ میں اقتدار پر براجمان ہے۔ سیاسی جماعت کو عسکری ترجمان بننے کے بجائے اپنے اصل جمہوری منشور پر توجہ دینی چاہیے۔ 9 مئی کے واقعات سے فائدہ اٹھانے والے عناصر ہی دراصل اس پورے سسٹم کے بینیفیشری ہیں۔ تحریک انصاف پر الزامات لگانے والی ن لیگ نے سی سی ٹی وی فوٹیجز کیوں چھپائیں۔ ملک کو عزت دینے کا نعرہ لگانے والے اب محض اقتدار کی طوالت کیلئے کوشاں ہیں۔















