امریکا اور ایران Iran America Talksکے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کیلئے مجوزہ معاہدےCeasefire کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جسے خطے میں ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق مجوزہ معاہدہ مفاہمتی یادداشت کی شکل Hormuz Strait,میں تیار کیا جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری تناؤ کو کم کرنا اور بحری تجارت کو بحال کرنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی منصوبہ تین مختلف مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا، جبکہ دوسرے مرحلے میں آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے گی تاکہ عالمی تجارتی سرگرمیاں معمول پر آ سکیں۔
وجے نے وزارتِ اعلیٰ سنبھالتے ہی استعفیٰ دیدیا
تیسرے مرحلے میں ایران اور امریکا کے درمیان جامع مذاکرات کا آغاز ہوگا، جس میں جوہری پروگرام، پابندیوں اور خطے کی سلامتی سمیت اہم معاملات زیر بحث آئیں گے۔
امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن کے 14 نکاتی منصوبے کے تحت ایران کو 12 سال تک یورینیم افزودگی روکنے اور جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کی ضمانت دینا ہوگی۔ اس کے علاوہ ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 60 فیصد افزودہ یورینیم بھی حوالے کرے۔دوسری جانب ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی مستقل معاہدے کیلئے معاشی پابندیوں کے خاتمے اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے کو بنیادی شرط سمجھا جا رہا ہے۔















