اے بی این نیوز کےپروگرام سوال سے آگے میں گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ Salman Akram Rajaنے عدالتی نظام، سیاسی صورتحال، مہنگائی اور ریاستی پالیسیوں پر سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ زیر التوا سزا معطلی Imran Khanکی درخواستوں پر سماعت نہ ہونا افسوسناک ہے اور عدالتوں کو ایسے مقدمات میں تاخیری حربوں کا نوٹس لینا چاہیے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات میں کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں اور ایک برطرف ملازم کی گواہی پر مقدمات قائم کرنا سیاسی انتقام کی مثال ہے۔ سلمان اکرم راجہ کے مطابق عدالتی نظام میں سزاؤں کی معطلی کی درخواستوں پر دہرا معیار اپنایا جا رہا ہے اور یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ کسی بھی صورت ریلیف نہ دیا جائے۔
ٹرمپ کا 14 اور 15 مئی کو ایک اہم ترین ملک کا دورہ،خطے کی صورتحال بدلنے کے روشن امکانات
گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو ریلیف سے محروم رکھنے کیلئے غیر معمولی تاخیر کی گئی، جبکہ اہل خانہ کو صورتحال سے آگاہ رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ رہائی سے رسائی تک کی باتیں صرف پروپیگنڈا ہیں اور مقبول سیاسی قیادت کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ملک بھر میں عوام سیاسی تبدیلی کیلئے تیار ہو رہے ہیں اور موجودہ فرسودہ نظام کے خاتمے تک سیاسی مزاحمت جاری رہے گی۔ ان کے مطابق اڈیالہ جیل کے باہر گرفتاریوں اور مبینہ تشدد کی مذمت کی جانی چاہیے جبکہ ملک میں گزشتہ چند برسوں سے سخت ریاستی دباؤ کا ماحول پایا جا رہا ہے۔
انہوں نے معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بے روزگاری، مہنگائی، سیلاب اور ماحولیاتی تبدیلیوں نے عوام اور معیشت کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق پانی کی قلت، زرعی نقصانات اور عالمی معاشی دباؤ نے پاکستان کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔















