اہم خبریں

پاکستان میں کالعدم سیاسی جماعتیں آزاد کشمیر کے عام انتخابات سے باہر، مہاجرین کے ووٹ سے متعلق بھی اہم فیصلے

اسلام آباد (رضوان عباسی ) آزاد جموں و کشمیر میں آئندہ انتخابات کی تیاریوں کے سلسلے میں حکومت نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے آزاد کشمیر الیکشن ایکٹ 2020 میں بڑی ترمیم کر دی ہے۔ اس سلسلے میں قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر نے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے صدارتی آرڈیننس جاری کر دیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق نئے آرڈیننس کے تحت پاکستان میں کالعدم قرار دی جانے والی سیاسی جماعتیں آزاد کشمیر میں بھی پابندی کی زد میں آئیں گی۔ اس پابندی کا اطلاق ان جماعتوں کی ذیلی تنظیموں اور علاقائی یونٹس پر بھی ہوگا تاکہ انتخابی عمل میں کسی بھی کالعدم تنظیم کی سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔

آرڈیننس کے ذریعے انتخابی قوانین میں کئی اہم تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں جن کا مقصد انتخابی عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔ نئی ترامیم کے تحت سیاسی سرگرمیوں کی نگرانی کا نظام مزید سخت کیا جائے گا تاکہ ضابطہ اخلاق کی مکمل پاسداری یقینی بنائی جا سکے۔

اسی طرح 1989 کے مہاجرین کو نئی رہائش گاہوں پر ووٹ رجسٹریشن اور حق رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ مہاجرین کو کیمپ تبدیل ہونے کے باوجود اپنے ووٹ کے حق سے محروم نہیں ہونا پڑے گا اور انہیں ووٹ ڈالنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
نئے آرڈیننس کے مطابق الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر کو مہاجرین کے لیے خصوصی طریقہ کار وضع کرنے اور اضافی ووٹر فہرستیں تیار کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے تاکہ انتخابی فہرستوں میں شفافیت اور سہولت کو یقینی بنایا جا سکے۔


حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسمبلی کا اجلاس نہ ہونے کی وجہ سے یہ آرڈیننس جاری کیا گیا اور یہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ آئندہ آزاد کشمیر انتخابات میں ان نئی ترامیم کا باقاعدہ اطلاق کیا جائے گا۔
حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد انتخابی نظام کو مزید شفاف، مؤثر اور منظم بنانا ہے تاکہ آزاد کشمیر میں جمہوری عمل کو مضبوط بنایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں