ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے جاری کشیدگی کے تناظر( iran) میں اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ مکمل جنگ بندی اسی صورت قابل قبول ہوگی جب سمندری ناکہ بندی ختم( strait of hormuz ) کی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری رہی یا ناکہ بندی برقرار رکھی گئی تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ممکن نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ایران کی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
حکومت کی جانب سے عوام کیلئے بڑا تحفہ،لانگ ویک اینڈ،چھٹیاں ہی چھٹیاں،جا نئے تفصیل
اس بیان کو خطے میں جاری کشیدگی کے حوالے سے ایک سخت پیغام قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر مذاکرات اور جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی تیل سپلائی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔















