واشنگٹن (اے بی این نیوز) امریکا نے ایران کے میزائل اور ڈرون نیٹ ورکس کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے 14 افراد، اداروں اور ایک طیارے کو بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ کارروائی ایران کے دفاعی پروگرام اور خطے میں اس کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے کی گئی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پابندیوں کا ہدف وہ نیٹ ورکس ہیں جو ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کو مالی، تکنیکی اور لاجسٹک معاونت فراہم کرتے ہیں۔ ان پابندیوں کے تحت نامزد افراد اور اداروں کے امریکا میں موجود تمام اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں جبکہ امریکی شہریوں کو ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے مالی یا تجارتی روابط رکھنے سے روک دیا گیا ہے۔
محکمہ خزانہ نے خاص طور پر پشگام کمپنی اور ماہان ایئر کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن پر الزام ہے کہ وہ ایران کے حساس پروگرامز میں معاونت فراہم کر رہے تھے۔ امریکی حکام کے مطابق ان اداروں کے ذریعے خطے میں اسلحے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دیا جا رہا تھا۔
امریکی بیان میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کو عالمی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور اس حوالے سے مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے ان پابندیوں پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں تہران ایسی کارروائیوں کو غیر قانونی اور سیاسی دباؤ قرار دیتا رہا ہے۔















