ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکی قیادت کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات کے حوالے سے سخت اور واضح مؤقف سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر Donald Trump نے کہا ہے کہ اگر ایران ( iran )کے ساتھ کوئی حتمی معاہدہ نہ ہوا تو موجودہ سیز فائر میں توسیع کے امکانات تقریباً ختم ہو جائیں گے۔
موجودہ جنگ بندی بدھ کی شام ختم ہو رہی ہے، اور اگر اس دوران کوئی ڈیل طے نہ پائی تو صورتحال دوبارہ انتہائی خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے۔ بم پحٹنا شروع ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی جلد بازی میں کمزور معاہدہ نہیں کیا جائے گا، تاہم اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو کشیدگی بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔
دنیا کب ختم ہو گی، ماہرِ طبیعیات ڈیوڈ کی پیشین گوئی سا منے آگئی،جا نئےآ پ بھی
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو جنگ کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا اور اس صورت میں خطے میں شدید ردعمل دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایران کو مذاکرات میں سنجیدگی دکھانی چاہیے اور بنیادی مسئلہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔
اسی دوران یہ بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ امریکی وفد جس میں نائب صدر کی قیادت میں اعلیٰ سطحی ٹیم شامل ہے، پاکستان میں جاری مذاکراتی عمل میں شرکت کے لیے روانہ ہو چکی ہے۔ اس وفد میں خصوصی نمائندے اور مشیران بھی شامل ہیں، جو خطے میں سفارتی پیش رفت کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت ہوتی ہے تو وہ ایرانی قیادت سے ملاقات کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران میں درست فریق کے ساتھ بات چیت ہی اصل پیش رفت کا راستہ ہے۔















