واشنگٹن (اے بی این نیوز)امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ایران سے ایک ہزار پاؤنڈ وزنی یورینیم نکالنے کے لیے فوجی آپریشن پر غور کر رہے ہیں۔
اس رپورٹ میں نام ظاہر کیے بغیر سکیورٹی اہلکاروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس آپریشن میں امریکی فوج کئی دنوں یا طویل عرصے تک ایران میں رہ سکتی ہے۔
ٹرمپ نے تاحال اس بارے میں فیصلہ نہیں کیا مگر وہ اس پر غور کر رہے ہیں کیونکہ اس سے ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کا مرکزی ہدف حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق خطے میں تعینات فوجی دستوں کو اصفہان میں جوہری تنصیبات پر موجود افزودہ یورینیئم حاصل کرنے کے مشن میں استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن انھیں جزیرہ خارگ یا آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اس ماہ کے اوائل میں رپورٹ کیا تھا کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اصفہان کے پہاڑ کے اندر جوہری ہتھیار بنانے کے لیے مواد رکھا گیا ہے جسے ضبط کر کے تباہ کرنے کے امریکی آپریشن پر ٹرمپ غور کر رہے ہیں۔
دونوں اداروں نے نشاندہی کی ہے کہ ایسا کوئی بھی آپریشن انتہائی پیچیدہ اور خطرات سے بھرپور ہوگا۔
مزید: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ،متوسط طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں ،وزیراعظم















