تہران ( اے بی این نیوز ) مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران نے ایک اور بڑا معاشی اور اسٹریٹجک قدم اٹھانے پر غور شروع کر دیا ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس حوالے سے پارلیمنٹ میں باقاعدہ قانون سازی کی تیاری بھی شروع کر دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ بل کے تحت خلیج فارس کے اس انتہائی اہم بحری راستے سے گزرنے والے تجارتی اور تیل بردار جہازوں سے فیس یا ٹیکس وصول کیا جا سکتا ہے، جو عالمی تجارت پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، خاص طور پر ایشیائی ممالک اس راستے پر انحصار کرتے ہیں۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ موجودہ علاقائی صورتحال، سیکیورٹی اخراجات اور بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ایسے اقدامات ضروری ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عالمی طاقتیں خطے میں دباؤ بڑھاتی رہیں تو ایران اپنے جغرافیائی اور اسٹریٹجک اثاثوں کو استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں :آج شوال کا چاند نظر آنے کے امکانات انتہائی کم ،رمضان المبارک 30 روزوں پر مشتمل ہوگا،سپارکو















